خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 321

خطبات محمود ۳۲۱ سال ۱۹۳۷ء پس مصری صاحب اپنے منکسرانہ الفاظ سے کس طرح یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ متکبر نہیں ہیں۔سوال تو یہ ہے کہ اگر وہ منکسر المزاج ہیں تو یہ کبر کے الفاظ ان کے منہ سے کس طرح نکل سکتے تھے۔ان کے منکسرا نہ الفاظ کو استعمال کرنے کی وجہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نیک ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن کبر کے الفاظ کو استعمال کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔کیا وہ اپنے آپ کو بد بھی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔سچ بولنے کا دعوی کرنا تو مفید ہوسکتا ہے لیکن جھوٹ بولنے کا دعوی کرنا نقصان کا موجب ہے۔اور نقصان انسان کبھی جان بوجھ کر نہیں کیا کرتا۔پس اپنے خطوط میں بعض انکسار کے الفاظ بتا کر یہ نتیجہ نکالنا کہ میں نے کبر کے الفاظ نہیں کہے غلط ہے۔ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان کے زیر بحث الفاظ کبر کے الفاظ ہیں یا نہیں۔اگر ہیں تو وہ انکسار کے الفاظ کی ایک کتاب بھی کیوں نہ پیش کر دیں ان کا تکبر ثابت ہے۔کیا تم سمجھتے ہو فرعون ہر روز خدائی کا دعوی کیا کرتا تھا؟ وہ ہمیشہ جُجوں کے سامنے جھکتا اور انکسار ظاہر کرتا تھا۔صرف ایک دفعہ غصہ میں اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کہہ دیا کہ میں خدا ہوں اور خدا تعالیٰ نے اُس کے اِس کبر والے فقرے سے اسے مجرم قرار دیا۔پس اگر مصری صاحب کے خطوط میں دس ہزار فقرے بھی انکسار کے ہوں اور صرف ایک فقرہ متکبرانہ ہو تو ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ سب بناوٹ تھی۔اور اس ایک ہی فقرہ نے ان کے اندرونہ کو ظاہر کر دیا ہے۔پس ہمارے لئے صرف ایک ہی سوال ہے کہ وہ زیر بحث فقرہ ان کے خطوط میں موجود ہے یا نہیں۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ متکبرانہ فقرہ وہی ہے جو انسان خود اپنی طرف منسوب کرے۔ہاں اگر خدا تعالیٰ یا قرآن کریم کی طرف منسوب کر کے کوئی شخص اپنی نسبت کوئی دعوی کرے تو ہم اس کے کی متعلق یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کا دعویٰ غلط ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ کہنے والا متکبر ہے۔لیکن جب بغیر خدا کا نام لئے بڑائی اپنی طرف منسوب کرے تو وہ کبر کہلائے گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا مصری صاحب کو الہام سے کھڑا ہونے کا دعوی ہے اس وقت تک تو مجھے یہ علم نہیں کہ ان کو ایسا دعویٰ ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے اور اس نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے مخالف سب شکست کھا جائیں گے اور کامیابی انہی کے لئے ہوگی۔اگر ان کا کوئی ایسا دعویٰ اس فقرہ کے ساتھ موجود ہے تو اپنے زیر بحث فقرہ کے متعلق انہیں اس قسم کی توجیہ کا حق ہے، اس سے قبل ہر گز نہیں۔اس سے پہلے اگر وہ اپنی بڑئی کا اظہار کریں تو وہ کبر ہوگا اور اس فقرہ میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جس سے خیال ہو سکے کہ یہ بات انہوں نے خدا تعالیٰ کی