خطبات محمود (جلد 18) — Page 318
خطبات محمود ۳۱۸ سال ۱۹۳۷ء اور جب اس کی ضرورت پیش آئی اس نے جھٹ جھوٹ بول دیا۔یا مثلاً ایک شخص چار نمازیں پڑھتا ہے مگر پانچویں چھوڑ دیتا ہے تو اسے نمازی نہیں کہا جاتا اور نہ وہ یہ کہ سکتا ہے کہ میں نمازی ہوں۔ہم یہ نہیں کی کہیں گے کہ اس نے چار نمازیں پڑھ لی ہیں اس لئے سمجھو ساری پڑھ لیں بلکہ یہ کہیں گے کہ ایک چھوڑ دی تو گویا ساری چھوڑ دیں۔ایک شخص سارا سال کسی کو نہیں مارتا مگر سال کے آخر پر مار دیتا ہے تو کیا قانون اسے اس وجہ سے کہ اُس نے سارا سال نہیں مارا، بے گناہ قرار دے دے گا اور کیا وہ سال بھر کسی کو نہ مارنا اپنی بے گناہی کے ثبوت میں پیش کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ چونکہ میں نے سارا سال نہیں مارا اس لئے میرے ایک دفعہ مارنے کو مارنا نہ کہو۔کیونکہ اگر اس کا ایک دفعہ مارنا ثابت ہو جائے تو وہ مارکھنڈ ہوگا بشرطیکہ ایسی وجوہ موجود نہ ہوں جو ا سے معذور قرار دیتی ہوں۔چور روز چوری نہیں کیا کرتے پھر کیا ی اس وجہ سے ایک چور یہ کہ سکتا ہے کہ میں پچاس دن سادھ رہتا ہوں مگر مجھے کوئی سادھ نہیں کہتا لیکن ایک دن چوری کرتا ہوں تو سب چور کہنے لگ جاتے ہیں۔چونکہ مُجرم انسانی فطرت کے خلاف ہے اس لئے جو شخص خلاف فطرت فعل کرتا ہے ، وہ اسی نام سے پکارا جائے گا اور جو بات اس سے فطرت کے مطابق ظاہر ہوتی ہے وہ عادتا ہے نیکی نہیں۔پس یہ کہنا کہ چونکہ مصری صاحب نے انکسار کا دعویٰ کیا ہے اس لئے کی تکبر کا دعویٰ ان کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا ، غلط ہے۔مذہبی دنیا میں انکسار خوبی ہے اور کبر عیب۔اور یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے کہ وہ عیب کو چھپاتا اور نیکی کو ظاہر کرتا ہے۔اپنی خوبی کو وہ تکلف۔ظاہر کرتا اور بدی کو چھپاتا ہے اور اس کوشش کے باوجود اگر کسی موقع پر وہ اپنی بدی کا اقرار کرتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ اس کی نیکی تکلف اور بناوٹ سے تھی۔کیا کوئی مومن کبھی نماز چھوڑ سکتا ہے؟ اور جو شخص ایک دفعہ بھی نماز چھوڑنے کا اقرار کرتا ہے اُس کی نسبت ماننا پڑے گا کہ وہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ نمازی نہیں اس کا نماز پڑھنا خاص اغراض کے ماتحت تھا۔جو شخص سچا ہے وہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا اور اگر ایک دفعہ جھوٹ بولنے کا اقرار اُس کے منہ سے نکل جائے تو اس کے سارے بیچ پر پانی پھر جائے گا۔پھر اگر نئے سرے سے تو بہ کر کے بیچ بولنا شروع کر دے تو ہم اسے سچا کہیں گے ورنہ نہیں۔یہ کبھی نہیں ہوگا کہ ہم کہیں اس نے دس سچ بولے تھے اگر ایک جھوٹ بول دیا تو کیا ہوا۔غرض وہ کام جو دنیا میں نیکی سمجھے جاتے ہیں، انسان ان کو تکلف سے بھی ظاہر کرتا ہے اور بدی کی کو چھپاتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ عیسائی تین خداؤں کے قائل ہیں۔مگر کسی عیسائی سے پوچھو تو وہ یہی کہے ہی