خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 317

خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۷ء ہوئے بھی دہلی کو راستہ جاتا ہے ممکن ہے وہ لاہور گیا ہو اور وہاں سے دہلی چلا گیا ہو۔غرض جب کسی شخص کے دوقولوں میں بظاہر اختلاف پایا جاتا ہو تو صداقت تین صورتوں میں سے ایک صورت میں پائی جائے گی۔کبھی دونوں قول غلط ہوں گے، کبھی ایک غلط ہو گا اور ایک صحیح ہوگا۔اور کبھی دونوں صحیح ہوں گے۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مصری صاحب کے ان بظاہر مختلف فقروں میں ان تینوں حقیقتوں میں سے کون سی تی حقیقت پائی جاتی ہے آیا (۱) دونوں فقرے ہی غلط ہیں۔وہ نہ منکسر المزاج ہیں اور نہ متکبر ہیں۔(۲) دونوں فقروں میں سے ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط۔(۳) دونوں فقرے ہی صحیح ہیں۔اور ایک فقرہ تشریح طلب ہے۔دونوں باتوں میں تضاد نہیں ہے۔پس یہی تین صورتیں ہیں جن کی روشنی میں مصری صاحب کے ان دو بظاہر مختلف دعووں کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ان میں سے یہ صورت کہ یہ دونوں دعوے غلط ہیں میرے نزدیک بھی اور مصری صاحب کے نزدیک بھی صحیح نہیں۔نہ وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دونوں جگہ غلطی کی ہے اور نہ ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے دونوں جگہ غلطی کی ہے۔دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ ان کے دونوں فقرے غلط نہیں ہیں۔پس قابل غور دو ہی صورتیں رہ گئیں۔ہم کہتے ہیں کہ انکساری کا دعوئی غلط اور بناوٹی ہے اور تکبر والا ان کا اصل دعوی ہے۔لیکن مصری صاحب کہتے ہیں کہ دونوں فقرے ان کے صحیح ہیں مگر ان سے ہم نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ غلط ہے۔ان دونوں فقروں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ منکسر المزاج ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں تشریحوں میں سے کون سی صحیح ہے۔مصری صاحب اپنے دعوئی کے ثبوت میں دلیل یہ دیتے ہیں کہ چونکہ میرے خطوط کے بعض دوسرے فقروں میں انکسار پایا جاتا ہے اس لئے اس فقرہ کے یہ معنے کہ میں کوئی متکبرانہ دعوی کرتا ہوں غلط ہے۔گویا ان کے دعویٰ کی بناء یہ ہے کہ میرے خطوط میں چونکہ ایسے فقرات موجود ہیں جن میں انکسار پایا جاتا ہے اس لئے جو بھی دوسرا فقرہ ہو اس کے معنے بہر حال انکسار کے ہی لینے پڑیں گے۔مگر ان کی یہ دلیل قطعاً غلط ہے اس لئے کہ اخلاقیات میں قاعدہ یہی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے کہ تکبر انکسار کو باطل کرتا ہے انکسار تکبر کو باطل نہیں کرتا۔ایک شخص دن میں پچاس دفعہ بیچ بولے اور ایک دفعہ جھوٹ تو اسے سچانہیں کہا جائے گا۔اور یہی کہیں گے کہ پچاس دفعہ سچ بولنے میں اسے جھوٹ کی ضرورت پیش نہیں آئی