خطبات محمود (جلد 18) — Page 236
خطبات محمود ۲۳۶ سال ۱۹۳۷ء اظہار نفرت نہ کریں یا ان سے اس الزام کا ثبوت طلب نہ کریں۔مگر باوجود اس کے کہ ان سے بار بار یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جو جماعت میں سے دہر یہ ہو چکے ہیں ہمارے سامنے پیش کریں اور ان کے نام بتائیں وہ بالکل خاموش ہیں۔ان کی بیٹی کی شادی کا معاملہ آجائے تو وہ اشتہار دینے لگی جاتے ہیں مگر دوسروں کے ایمان پر وہ تبر چلا رہے ہیں۔انہیں نہ صرف تمام صداقتوں کے منکر بلکہ خدا تعالیٰ کا منکر قرار دے رہے ہیں اور پھر جب ان سے دریافت کیا جاتا ہے تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔کیا یہی تقویٰ اور دیانت ہے؟ اور کیا ان کی پوتی کا دودھ اس سے زیادہ قیمتی ہے جتنا جماعت کے ایمان کا معاملہ قیمتی ہے۔کیا پہرے کا سوال زیادہ قابل ذکر ہے اور جماعت کے دہریہ ہونے کا سوال قابل ذکر نہیں ؟ کیا ان کے گھر میں کسی کا دور بین سے دیکھ لینا زیادہ قابل توجہ فعل ہے اور جماعت کے کی ایمان کا سوال قابل توجہ نہیں ؟ مگر وہ کہتے ہیں چھوڑ دو اس سوال کو کہ جماعت دہر یہ ہوگئی ہے یا نہیں ، آؤ ان باتوں کا فیصلہ کریں کہ ان کی پوتی کا دودھ کس نے بند کیا۔کیونکہ ان کی خاموشی کے سوا اس کے اور کچھ معنے نہیں کہ وہ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں کہ اس سوال کو جانے دو اور ان باتوں کی طرف توجہ کرو جو میں نے پیش کیں۔آخر جب کوئی دوسرے پر اتنا بڑا الزام لگاتا ہے تو کیسی بے ایمانی ہے کہ اس الزام کوی ثابت نہیں کیا جاتا اور معمولی معمولی باتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔وہ ان لوگوں پر جو خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ایمان لائے جو دنیا میں ایمان قائم کرنے کیلئے کھڑے ہوئے یہ الزام لگاتے اور نہایت ہی جھوٹا اور ناپاکی بہتان باندھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر دہر یہ ہو چکے ہیں اور بہت سے دہر یہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔مگر جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اس ناپاک الزام کو ثابت کریں تو کہتے ہیں اس سوال کو رہنے دو اور آؤ اس بات پر ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ میری پوتی کا دودھ کس نے بند کیا۔اس سے زیادہ بیوقوفی اور حماقت اور کیا ہوگی۔وہ ایک گھر کو آگ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں اس آگ کو نہ بجھاؤ آؤ اور یہ دیکھو کہ میرا سگریٹ کس نے جلایا۔وہ ایک کو قتل کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس قتل کی کیا تحقیق کرنی ہے مجھے آج چھینکیں آئی ہیں ان چھینکوں کے آنے کی وجہ دریافت کرو۔وہ ایسا خطرناک الزام جماعت پر لگاتے ہیں کہ جس الزام سے بڑھ کر اور کوئی الزام نہیں ہو سکتا، وہ جماعت کے سینہ میں ناسور ڈالتے اور پھر کہتے ہیں جماعت ٹھنڈے دل سے غور کرے اور بتائے کہ وہ چھوٹی چھوٹی تکلیفیں انہیں کیوں پہنچیں۔یہ بھی جھوٹ ہے کہ انہیں وہ تکلیفیں پہنچیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ اتنا بڑا الزام لگانے کے بعد ان کا یہ خیال کرنا کہ پہلے کی