خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 235

خطبات محمود ۲۳۵ سال ۱۹۳۷ء تفصیلات عقائد یا جزئیات اعمالِ صالحہ ہیں ان میں سے کسی ایک کے متعلق ہی یہ کہنے پر کہ وہ اس کے قائل نہیں رہے وہ طیش میں آجائیں گے۔مگر جماعت احمدیہ کے متعلق سراسر جھوٹے اور بے بنیاد الزام شائع کرنے اور اس کی طرف بالکل غلط باتیں منسوب کرنے کے باوجود بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ جماعت کی احمدیہ کو ان کی باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے اور طیش میں نہیں آنا چاہئے۔ان کو یہ جھوٹی خبر اور بے بنیاد خبرسن کر تو سخت تکلیف ہوئی کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے لاہور میں کہا ہے کہ مصری صاحب کو اس لئے ٹھوکر لگی کہ انہوں نے اپنی لڑکی خاندانِ نبوت میں رشتہ کیلئے پیش کی تھی ،مگر رشتہ نہ لیا گیا۔حالانکہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اس بات سے انکار کرتے اور لکھتے ہیں کہ ”میں نے یہ الفاظ ہر گز نہیں کہے شیخ صاحب نے بے احتیاطی سے کام لیتے ہوئے میری نسبت غلط طور پر راوی کی غلطی بیانی کی بناء پر کہہ دیئے ہیں جو محض تہمت اور بہتان ہے۔لیکن میرا تقویٰ دیکھو میں نے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کولکھوایا کہ بعض دفعہ انسان بات کہہ کر بھول بھی جاتا ہے آپ اچھی طرح سوچ لیں اور جماعت سے بھی دریافت کر لیں کہ ان میں سے کسی شخص کے سامنے آپ نے یہ بات تو نہیں کہی مگر انہوں نے پھر بھی یہی لکھا کہ میں نے کسی شخص کے سامنے یہ بات نہیں کہی۔پس انہیں اپنے متعلق ایک چھوٹی سی بات سُن کر تو طیش آ گیا اور فوراً ایک اشتہار شائع کر دیا۔مگر جماعت احمد یہ جو خدا تعالیٰ کی آخری جماعت ہے، جو خدا تعالیٰ کے آخری مامور کو ماننے والی جماعت ہے، جو اصحاب الصفہ کی جماعت ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہامات فرماتا ہے کہ تجھے کیا معلوم یہ پاکباز غریب جو تیری جماعت میں شامل ہیں ان کی خدا تعالیٰ کے نزدیک کیا شان ہے وہ اس جماعت کے متعلق یہ نہیں کہتے وہ نماز کی منکر ہے، یہ نہیں کہتے وہ روزے کی منکر ہے ، یہ نہیں کہتے وہ حج کی منکر ہے، یہ نہیں کہتے وہ زکوۃ کی منکر ہے، یہ نہیں کہتے وہ دیانت وامانت کی منکر ہے، یہ نہیں کہتے وہ مسیح موعود کی منکر ہے یہ نہیں کہتے وہ محمد ﷺ کی منکر ہے، یہ نہیں کہتے وہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھما السلام کی منکر ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ ہی کی منکر ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِہم کے بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلی۔اب کیا یہ معمولی بات ہے جو انہوں نے کہی کہ بہت سے لوگ جماعت احمدیہ میں سے دہر یہ ہو چکے ہیں اور بہت سے دہر یہ ہونے کی تیاری کی کر رہے ہیں۔کیا یہ ایک معمولی سا الزام ہے کہ اس پر ہم خاموش ہو کر بیٹھ جائیں اور اس کے خلاف