خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 237

خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۳۷ء ان امور کی تو تحقیق ہو اور جماعت پر دہریت کا الزام لگا کر وہ خاموش ہو جائیں یا تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خودد ہر یہ ہیں اور اس الزام کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور یا یہ کہ ان کے دماغ میں نقص ہے۔بہر حال ایک مومن جو اپنے ایمان کی قدر کو جانتا اور جو حضرت مسیح موعود دعلیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی قیمت کو پہچانتا ہے وہ تو کبھی اس الزام کو سُن کر خاموش نہیں ہوسکتا اور وہ تو اس کے ثبوت کا ان سے مطالبہ کرتا رہے گا کیونکہ یہ الزام کسی فرد پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مقدس جماعت پر ہے اور بیچ یہ ہے کہ اگر یہ الزام ان کا درست ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔پس ایک سچا احمدی اس الزام کے بعد تسلی نہیں پاسکتا جب تک اسے دور نہ کر لے اور مصری صاحب کو جھوٹا نہ ثابت کرے۔بہر حال وہ خواہ خاموش رہیں مگر میں ان کے دوسرے الزامات کے متعلق بھی خاموش نہیں رہنا چاہتا۔مصری صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے گھر کی ناکہ بندی کی گئی ہے ، ضرویات زندگی کے حصول میں روکیں پیدا کی جارہی ہیں ، دُکانداروں کو سو دا دینے سے روکا جاتا ہے، بھنگن کو کام کرنے سے منع کیا گیا ہے، غیر احمدی مزدوروں کو کام کرنے سے روکا گیا ہے، اُن کی پوتی کا دودھ بند کیا گیا ہے، غیر احمدی ملازمہ کو گھر میں کام کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور یہ کہ جب وہ باہر نکلتے ہیں تو ان پر چند لونڈے مسلط ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں۔پھر ۴ جولائی کو ۱۵ ، ۱۶ نو جوان جو لاٹھیوں اور ہاکیوں سے مسلح تھے آئے اور ان کے گھر کی ناکہ بندی کرلی اور گھر کو ڈور بین لگا کر اندر سے دیکھا۔یہ وہ الزامات کی ہیں جو جماعت احمدیہ کے خلاف انہوں نے شائع کیے۔میں سمجھتا ہوں ان حالات میں جبکہ وہ ہماری جماعت پر یہ خطر ناک الزام لگا رہے ہیں کہ یہ جماعت دہر یہ ہوگئی اور وہ ہمارے مطالبات کا جواب تک دینے کیلئے تیار نہیں ان کا کوئی حق نہیں کہ وہ ہم سے اپنی تکلیفوں کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ہماری جماعت لاکھوں کی جماعت ہے۔لیکن اگر اس کو تسلیم نہ کیا جائے تو گورنمنٹ کی مردم شماری کے رُو سے ہی ۱۹۳۰ء میں صرف پنجاب میں ہماری جماعت چھپن ہزار تھی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سارے ہندوستان میں کم از کم ہماری جماعت ایک لاکھ ہے۔اب ایک لاکھ میں بہت سے لوگوں کے دہریہ ہو جانے کا مطلب تو یہ ہے کہ پچاس ساٹھ ہزار ایسے لوگ ہیں جو د ہر یہ ہو چکے ہیں۔لیکن اگر پچاس ساٹھ ہزار نہ سہی تو کم از کم دو چار ہزار ایسے لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو دہر یہ ہو چکے ہوں۔کیونکہ اگر خالی