خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 185

خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۷ء و مخفی ہے۔اگر کوئی ایسا شخص ہو جسے آگے بات بیان کرنے کی عادت نہ ہو تو یہ حساب بھی اس شخص کو بتایا جاسکتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ چار ہزار روپیہ میں نے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ کیا تو جب یہ دیکھا جائے کہ اس عرصہ میں صرف تحریک جدید میں میں نے چونتیس سو چورانوے روپے چندہ دیا ہے۔پہلے سال سات سو میں دیا تھا۔دوسرے سال ایک ہزار چونتیس روپیہ اور اس دفعہ سترہ سو ساٹھ روپیہ۔گویا چونتیس سو چورانوے خالص میرا ذاتی چندہ ہے جو میں نے تحریک جدید میں دیا۔بیویوں بچوں کا چندہ ستائیس سو روپیہ کے قریب اس سے الگ ہے۔یہ گل رقم چندہ کی میری اور میرے بیوی بچوں کی چھ ہزار ایک سو ستاون بنتی ہے۔اس کے مقابل پر چار ہزار کے قریب کی رقم میرے تو سط سے خرچ ہوئی ہے اور گو حساب اس کا موجود ہے مگر عام حساب سے مخفی نہیں۔لیکن کیا میرے چندہ کو دیکھ کر اور مجھ پر جو اعتراض کیا گیا ہے اُسے دیکھ کر کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ تحریک جدید کے نام پر میں نے اپنے لئے روپیہ بٹورنے کی کوشش کی۔اس اعتراض کو درست تسلیم کر لینے کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں نے چار ہزار کمانے کیلئے چھ ہزار ایک سو ستاون روپیہ خرچ کیا۔پھر میں ان لوگوں کو جنہوں نے یہ اعتراض کیا کہتا ہوں کہ ہمارے سارے خاندان کا صرف تحریک جدید کا چندہ اس عرصہ کا بیس ہزار سات سو پچانوے روپیہ بنتا ہے۔اب اگر یہ درست ہے کہ ہم نے اس چندہ سے چار ہزار روپیہ پھر الیا تو ایسی چوری یہ معترض خود کیوں نہیں کرتے۔اس چوری میں میں ان کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوں۔وہ اکیس اکیس ہزار کی رقم دیتے جائیں اور چار چار ہزار کی تھیلیاں نکال کر ہم باہر رکھ دیں گے وہ انہیں چرا کر لیتے جائیں اور خوب مزے اُڑائیں۔پھر تین سال میں چار ہزار روپیہ لینے کے معنے یہ بنتے ہیں کہ میں نے قریباً سوا سو روپیہ ماہوار اس تحریک سے لیا مگر کیا تم سمجھتے ہو تم نے ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کی ہے جو سوا سو روپیہ ماہوار کھانے کیلئے ساری جماعت میں ایک شور پیدا کر دیتا ہے۔پس ایسا اعتراض کرنا اس کی ذلت نہیں تمہاری اپنی ذلت ہے کہ تم نے ایک ایسے شخص کو اپنا امام بنا جس نے ( نَعُوذُ بِاللهِ ) سوا سو روپیہ ماہوار کھانے کیلئے اتنا بڑا ہنگامہ برپا کر دیا۔پھر رجسٹرات موجود ہیں وہ جا کر دیکھو تمہیں معلوم ہوگا کہ سوا سو روپیہ ماہوار سے زیادہ تو میں نے چندہ ہی دیا ہے۔اب اگر اسی کا نام لوٹ ہے تو یہ لوٹ تم بھی کی شروع کر دو ہمیں منظور ہے۔تم بھی چار چار ہزار روپیہ لوٹ کر لیتے جاؤ اور اکیس اکیس ہزار روپیہ دیتے