خطبات محمود (جلد 18) — Page 184
خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۷ء ڈالی گئی ہو۔وہ یہ کہ کسی کہنے والے نے کہا کہ خلیفتہ المسیح نے جو تحریک جدید جاری کی ہے یہ اپنے لئے روپیہ جمع کرنے کیلئے جاری کی ہے اور انہوں نے اس ذریعہ سے جماعت سے بہت سا رو پیدا کٹھا کر لیا ہے۔مجھ پر خلافت سے پہلے بھی کئی قسم کے اعتراضات ہوتے چلے آئے ہیں اور اب بھی کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں اور بہت سے اعتراض ایسے ہوتے ہیں جو معترض پوشیدہ طور پر کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید ان پر پردہ پڑا رہے مگر مالی معاملات میں شروع سے ہی میں نے ایسی احتیاط رکھی ہوئی ہے کہ شدید سے شدید دشمن کے سامنے بھی اعتراضات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔مثلاً بعض لوگ مجھ کو ہدیہ کے طور پر رقم بھجواتے ہیں۔ایسی رقوم کے متعلق بھی میں نے یہ اصل مقرر کیا ہوا ہے کہ وہ پہلے محاسب کے دفتر میں درج ہو کر پھر میرے نام آتی ہیں تا کہ اگر کوئی اعتراض کرے تو دفتر کے رجسٹر کھول کر اس کے کی سامنے رکھ دئے جائیں کہ دیکھو کتنار و پیر آیا۔اسی طرح تحریک جدید کے تمام اموال صدر انجمن احمدیہ کے رجسٹرات میں درج ہوتے اور خزانہ میں داخل ہوکر بلوں کے ذریعہ نکلتے ہیں۔غرض تحریک جدید کے تمام روپیہ کے متعلق میرا انتظام یہی ہے کہ جو رقم بھی تحریک جدید کی خرچ ہو وہ پہلے صدر انجمن احمدیہ کی طرف منتقل ہوا اور اس کی وساطت سے خرچ ہو اور اس سب کا تفصیلی حساب رکھا جاتا ہے۔صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں مگر میں اس کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسی ہی اور ضروریات پر جو ہر شخص کو بتائی نہیں جاسکتیں خرچ ہوتی ہیں۔تین سال کے عرصہ میں صرف چار ہزار کے قریب روپیہ ایسا ہے جو میرے توسط سے خرچ ہوا۔اس کا باقی تمام روپیہ دفتر کی وساطت سے خرچ ہوا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں تین سال کے عرصہ میں چھ ہزار ایک سو ستانوے روپیہ چندہ تحریک جدید میں میں نے اور میری بیویوں اور بچوں نے دیا ہے۔اور اس تین سال کے عرصہ میں آٹھ ہزار روپیہ کے قریب وہ چندہ ہے جو صدر انجمن احمدیہ کو دیا گیا یا جس کا وعدہ ہے۔اب تم اس اعتراض کی معقولیت کو خود سمجھ لو کہ میں نے تحریک جدید اس لئے جاری کی کہ چار ہزار روپیہ لوں اور چودہ ہزار روپیہ اپنے پاس سے دے دوں؟ بھلا چار ہزار روپیہ کمانے کیلئے مجھے اتنی بڑی تحریک کی کیا ضرورت تھی۔تحریک جدید کے رجسٹرات گھلے ہیں۔وہاں سے ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ چار ہزار کے لگ بھگ رقم میرے تو سط سے خرچ ہوئی ہے۔یہ نہیں کہ اس چار ہزار کا حساب نہیں۔حساب اس کا بھی ہے مگر