خطبات محمود (جلد 18) — Page 186
خطبات محمود ۱۸۶ سال ۱۹۳۷ء جاؤ۔اگر معترض اسی طرح کرنے لگیں تو ہمیں فی ایسی چوری میں جوسترہ سترہ ہزار کا نفع ہوگا اور اگر ایک ہزار آدمی کا ہمیں ایسا مل جائے تو کئی لاکھ روپے سالانہ کی بچت ہو جائے۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے اس الزام کی تحقیقات تو بعد میں کروں گاممکن ہے یوں ہی دوسرے پر اتہام لگا دیا گیا ہے اور اس نے یہ بات نہ کہی ہو۔لیکن چونکہ ممکن ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایسا خیال کی موجود ہو اور اس نے کسی سے اس کا ذکر کیا ہو اس لئے ایسے لوگوں کے پراپیگنڈا کو رد کرنے کیلئے میں ان نے بتایا ہے کہ تحریک جدید کا تمام روپیہ صدرانجمن احمدیہ کے خزانہ میں جاتا اور اسی کی معرفت خرچ ہوتا ہے اور وہ رقم جو خفیہ اخراجات کے لئے رکھی گئی ہے وہ البتہ میرے ذریعہ سے خرچ ہوتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ ساری رقم تین سال میں چار ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے۔حالانکہ تین سالہ میرا چندہ قریباً ساڑھے تین ہزار اور میرے بیوی بچوں کا ملا کر چھ ہزار ایک سو ستاون کے قریب ہے اور اگر اپنے بھائیوں بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں کا چندہ ملا لیا جائے تو ہم نے ان تین سالوں میں اکیس کی ہزار کے قریب چندہ دیا ہے اور میرے ذمہ جو روپیہ آتا ہے وہ چار ہزار ہے۔اب تم خود ہی اس اعتراض کی معقولیت سوچ لو کہ میں نے یہ تحریک جدید اس لئے جاری کی کہ میں نے چاہا کہ ہم اکیس ہزار دے کر سلسلہ کا چار ہزار روپیہ لوٹ لیں گے؟ اگر کہو کہ بیوی بچوں کا چندہ اس میں کیوں ملاتے ہو انہوں نے ی اپنے اخلاص سے الگ دیا تھا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ بہر حال میں نے بھی تو ساڑھے تین ہزار چندہ دیا ہے۔اب اگر میں نے چار ہزار روپیہ کھا لیا ہے اور جو کچھ کام ہوا ہے وہ سب معترضین کی توجہ سے ہوا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ چار ہزار میں نے کھایا اور ساڑھے تین ہزار دیا۔یعنی تین سال میں میں۔پورے پانچ سو روپے زائد وصول کئے جو سالانہ ایک سو چھیاسٹھ روپے ہوتے ہیں اور ماہوار کے حساب سے پونے چودہ روپے ماہوار بنتے ہیں۔گویا تحریک جدید کے متعلق میں نے جس قدر خطبات پڑھے، جتنی تقریریں کیں ، جتنی سکیمیں سوچیں، جتنا شور اور ہنگامہ برپا کیا وہ محض اس لئے تھا کہ کسی طرح میں پونے چودہ روپے ماہوار سلسلہ کے کھا جاؤں۔حالانکہ اگر میں خطبے اور تقریریں نہ کرتا اور صرف ایک کتاب لکھ دیتا تب بھی اس سے دوگنی بلکہ چوگنی رقم ماہوار کما سکتا تھا۔مگر میں نے تو یہ بھی کبھی نہیں کیا اور کتابیں لکھ کر سلسلہ کو دے دیتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں کماتا ہوں اور خدا نے مجھے عقل اور فہم دیا ہے۔ابھی پچھلے سال میں