خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 183

خطبات محمود ۱۸۳ سال ۱۹۳۷ء ایک کے لئے سواری کی ضرورت تھی۔آپ نے مجھے فرمایا تم نواب صاحب سے میرے لئے گاڑی منگوا دو میں مصلحت سے خود گاڑی نہیں منگوا سکتا۔خیر میں نے انہیں کہا اور فوراً گاڑی آگئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول اس میں بیٹھ کر جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے اور آپ نے تقریر شروع کر دی۔چونکہ عام طور پر اسی آپ کی تقریر دواڑھائی گھنٹہ کی ہوا کرتی تھی اس لئے میں نے مولوی محمد علی صاحب سے پوچھا کہ گاڑی والا ٹھہرا رہے یا چلا جائے ؟ وہ کہنے لگے تقریر لمبی ہو جائے گی اس لئے گاڑی والے کے ٹھہرنے کی تی ضرورت نہیں اسے بھجوا دیا جائے۔جب تقریر ختم ہونے والی ہوئی تو گاڑی منگوالی جائے گی۔چنانچہ میں نے اسے کہہ دیا کہ چلے جاؤ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد آ جانا وہ چلا گیا۔ادھر حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے ابھی چند منٹ ہی تقریر فرمائی تھی کہ آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور آپ نے فرمایا اب ہم چلتے ہیں گاڑی لاؤ۔میں نے فوراً آدمی دوڑایا کہ جلدی گاڑی لائی جائے مگر اسے آنے میں کچھ دیر لگی۔اس پر حضرت خلیفہ اول کو ناراضگی پیدا ہوئی اور آپ پیدل ہی چل پڑے۔مولوی محمد علی صاحب بھی ساتھ ساتھ تھے۔راستہ میں آپ فرمانے لگے یہ کیسی سخت غلطی کی گئی ہے۔سب کو پتہ تھا میں بیمار ہوں مگر پھر بھی گاڑی کو نہیں ٹھہرایا گیا۔مولوی محمد علی صاحب بھی ہاں میں ہاں ملاتے گئے اور کہنے لگے واقعہ میں ان سے ی سخت غلطی ہوئی ہے۔میں نے کہا حضور کی تقریر عام طور پر لمبی ہوا کرتی ہے اس لئے میں نے سمجھا کہ ڈیڑھ دو گھنٹہ تقریر ہوگی اور گاڑی والے کو بھی میں نے اس عرصہ کے اندر آنے کو کہہ دیا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا عذر تو ہر شخص کر لیتا ہے ہماری پنجابی میں مثل مشہور ہے ، من حرامی حجتاں ڈھیر، یعنی جب کسی کام کو انسان کا دل نہ چاہے تو وہ کئی غذر بنا لیتا ہے۔میں یہ سن کر خاموش رہا اور میں نے یہ نہیں کہا کہ مولوی محمد علی صاحب جو اس وقت ساری غلطی میرے سر ڈال رہے ہیں ، انہوں نے ہی یہ مشورہ دیا تھا اور انہی کے مشورہ پر گاڑی والے کو بھیجا گیا تھا۔تو جب ہمارے کام محض خدا تعالیٰ کے لئے ہوں تو ان باتوں کی ہمیں پرواہ ہی کیا ہو سکتی ہے۔پس اس قسم کی باتوں سے ڈرنا اور کہنا کہ جب تحقیقات ہوں گی تو افسر آئندہ ہمیں دِق کیا کریں گے ،سخت کمزوری کی علامت ہے اور اس بات کا ثبوت کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل نہیں۔اب جو باتیں اس نے لکھیں ہیں ان کے متعلق تحقیق تو میں بعد میں کروں گا لیکن ان میں سے ایک بات ایسی ہے جس کے متعلق میں آج ہی کچھ کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ممکن ہے وہ بات کسی اور کے کان میں بھی