خطبات محمود (جلد 18) — Page 182
خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۷ء صلى الله جماعت کو ان مسائل سے آگاہ کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ کونسے امور ایسے ہیں جو رسول کریم کیا ہے نے پسند کئے اور کونسے امور ایسے ہیں جن پر آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔کن باتوں کا آپ نے حکم دیا اور کن باتوں سے آپ نے لوگوں کو منع فرمایا۔اس کے بعد ایک اور امر کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کل مجھے ایک رقعہ ملالی ہے۔میں لکھنے والے کا نام ظاہر نہیں کرتا۔اُس نے ایک شخص کی شکایت میرے پاس کی ہے لیکن ساتھ ہی لکھا ہے کہ میں ڈرتا ہوں اگر تحقیقات کی گئیں تو چونکہ یہ لوگ ہمارے افسر بنتے ہیں، اس لئے مجھے دق کریں گے اور اس طرح مجھے تکلیف ہو گی۔اس کے متعلق پہلے تو میں یہی نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ جو کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جارہا ہو اُس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ہمیں اس کے نتیجہ میں تکلیف ہوگی۔کیا جب رسول کریم ﷺ کے صحابہ احد کی جنگ میں شامل ہوئے تھے تو وہ اپنے ساتھ یہ دکھی لکھوا کر لے گئے تھے کہ انہیں کوئی زخم نہیں لگے گا اور نہ ان میں سے کسی شخص کو دشمن مار سکے گا یا اس نیت سے گئے تھے کہ ہم خدا کیلئے لڑنے جارہے ہیں چاہے مارے جائیں، چاہے زخمی ہوں۔اگر بعض افسر لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں تو اس لئے دیتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں دوسروں میں بُزدلی پائی جاتی ہے۔لیکن اگر تمہارے اندر بُزدلی نہیں اور تمہارا اپنے خدا پر ایمان ہے تو دنیا کا ظلم حقیقت ہی کیا رکھتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان سچی بات کو چھپائے۔میں اپنی زندگی کی مثال پیش کرتا ہوں۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کے چھ سالہ عہد خلافت میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب انجمن پر قابض تھے۔یہ بسا اوقات خلیفتہ المسیح الاوّل کے خلاف باتیں کرتے۔اور جب وہ آپ کے لئے یا سلسلہ کے لئے نقصان دہ ہوتیں تو میں آپ کو بتا دیتا۔اس پر چہ مگوئیاں بھی ہوتیں۔میرے خلاف منصوبے بھی ہوتے۔پھر میں اکیلا تھا اور ان کا ایک جھا تھا مگر اس چھ سال کے عرصہ میں کبھی ایک منٹ کیلئے بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ میں ان باتوں کو چُھپاؤں۔پھر میں اگر وہ باتیں بتاتا تھا تو اس لئے نہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل پر احسان کی جتاؤں بلکہ اس لئے کہ میں اخلاق اور روحانیت کے قیام کیلئے ان باتوں کے انسداد کی ضرورت سمجھتا تھا۔اس دوران میں بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کو میرے متعلق دھوکا اور فریب دیا اور آپ مجھ پر ناراض ہو گئے۔لیکن میں پھر بھی اپنے فرض کی ادائیگی سے باز نہ آیا۔ایک واقعہ مجھے اب تک یاد ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل بیمار تھے جلسہ کے ایام تھے اور آپ کو جلسہ گاہ میں جانے