خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 181

خطبات محمود ۱۸۱ سال ۱۹۳۷ء ادھا لا ہے۔مگر دینی مسائل سے ناواقفیت کی حالت یہ ہے کہ وہ ادھالے کو بُرا سمجھتے ہیں مگر خیال کرتے ہیں جب ہم یہ کہہ دیں گے کہ لڑکی کی مرضی یہی تھی تو بات صاف ہو جائے گی۔حالانکہ اس طرح بات صاف نہیں ہوتی بلکہ اور زیادہ پختہ ہو جاتی ہے۔پس اگر ان مسائل سے لوگوں کو واقف رکھا جاتا تو نہ انہیں شرمندگی اُٹھانی پڑتی اور نہ ان جرائم کا ارتکاب وہ کرتے اور اگر باوجود علم کے وہ ایسے افعال کے مرتکب ہوتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہماری جماعت سے نکلومگر اب چونکہ لوگوں کو ان مسائل کا علم نہیں اس لئے یہی صورت ہے کہ ہم ان کو سمجھائیں اور انہیں ان مسائل سے واقف کریں پس میں پھر ہر محلہ کے عہدے داروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی مسجدوں کو آباد کریں اور محلہ میں کم سے کم ہفتہ میں ایک دفعہ سلسلہ کے کسی عالم سے شادی بیاہ ، معاملات اور اخلاق وغیرہ جیسے مسائل پر لیکچر دلائے جائیں تا جماعت کے لوگ اُس تعلیم سے فائدہ اُٹھا سکیں جو رسول کریم ﷺ نے ایک اچھے شہری کے متعلق دی ہے۔مثال کے طور پر ایک موٹی بات بیان کر دیتا ہوں۔پرانے بازار کے آگے جب نیا بازار بنا تو میں بہت خوش ہوا کہ رسول کریم ﷺ کی اس تعلیم پر عمل ہونے لگا ہے کہ بازار چوڑے ہونے چاہئیں تا لوگوں اور سواریوں کو گزرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔لیکن اب مجھے کبھی بازار سے گزرنے کا اتفاق ہو تو ای میں دیکھتا ہوں کسی نے دوفٹ آگے بڑھا کر تھڑا بنایا ہوا ہے اور کسی نے تین فٹ۔پھر چھ مہینے کے بعد گزریں تو وہی تھڑے چار چارفٹ کے بن چکے ہوتے ہیں۔اس طرح تھڑے بازار میں بن بن کر گزرنے کا راستہ پھر ذرا سا رہ گیا ہے حالانکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ راستے میں ذرا سی روک ڈالنے والے پر بھی فرشتے لعنت بھیجتے ہیں لیے جب ذراسی روک کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رُکاوٹ کی برستی ہے تو راستے پر قبضہ کرنا کیسا لعنتی کام ہے۔مگر لوگ یہ کام کرتے ہیں حالانکہ انہیں اگر رسول کریم کے ارشادات کا علم ہوتا تو وہ کبھی اس طرح راستوں پر قبضہ نہ جماتے۔اور اگر مساجد میں ان امور کے متعلق با قاعدہ وعظ اور لیکچر ہوتے رہتے تو بد عمل بھی اصلاح کر لیتے مگر اس معمولی سے حکم کی نا واقفیت کی کا نتیجہ یہ ہے کہ گلیوں میں چلے جاؤ تمہیں تھڑے بنے ہوئے نظر آئیں گے۔اور ہر شخص یہی چاہے گا کہ تھوڑا سا وہ آگے بڑھا ہے تو تھوڑا سا میں بھی آگے بڑھ جاؤں۔ان مسائل سے ناواقف رہنے کی وجہ ی سیمعلوم نہیں کتنی لعنتیں پڑتی رہتی ہوں گی۔پس جماعت کے ایمان کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ