خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 769 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 769

خطبات محمود ۷۶۹ سال ۱۹۳۶ اگر آج تمہاری روحیں ان کے آستانہ پر گر جائیں اور ان کے روحانی وجود کی طرف بڑھیں تو تم آج بھی وہی رُتبے حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے۔ضرورت صرف تقویٰ ، اخلاص اور ایثار کی ہے۔تم ہرگز ہرگز یہ خیال مت کرو کہ جو کچھ پہلوں کو ملا وہ تم کو نہیں مل سکتا صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر اصلاح پیدا کر و تقویٰ اور خشیت اللہ پیدا کرو۔یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک سچا عاشق اپنے معشوق کے پیارے سے محبت نہ کرے اور اس کے قریب نہ ہو۔کیا یہ ممکن ہے کہ تم کسی کے ملازم ہو اور تمہارے آقا کا بچہ تمہیں جنگل میں اکیلا ملے اور تم اسے وہیں چھوڑ کر چلے آؤ۔پھر یہ خیال کرو کہ اگر تقویٰ اور خشیت سے تم اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے اندر پیدا کر لو اور اس کے محبوب بن جاؤ تو اس کا کامل عبد محمد ﷺ کس طرح تم سے الگ ہو سکتا ہے یقین و محمد کا ہو خدا تعالیٰ اُس کا ہو جاتا ہے اسی طرح جو خدا تعالیٰ کا ہو جائے محمد رسول اللہ ﷺ خود بخود داس کے ہو جاتے ہیں۔اسی طرح جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہو جائے خدا تعالیٰ اُس کا ہو جاتا ہے اور جو خدا کا ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے ہو جاتے ہیں۔پس اگر جسمانی طور پر محمد اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے جدا ہو جائیں تو ہمارا خدا تو ہم سے جد انہیں تم اگر خدا کے ہو جاؤ تو محمد ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بخود تمہارے ہو جائیں گے۔پس اے بعد میں آنے والو! گھبراؤ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ترقیات کے رستے تمہارے لئے بند نہیں کئے۔ایک بزرگ لکھتے ہیں کہ احادیث پڑھتے وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کرتا تھا کہ کیا خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے محمد ﷺ کی زبان مبارک سے کلمات سنے اور لوگوں تک پہنچائے۔یہ حسرت میرے دل میں بڑھتی گئی یہاں تک کہ ایک شب خواب میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا بخاری لاؤ اور اس میں سے ایک حدیث خود مجھے پڑھائی اور پھر فرمایا کہ اب یہ براہ راست تم لوگوں کو ہماری طرف سے سنا سکتے ہو۔پس اگر حقیقی محبت پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ پر کیا مشکل ہے کہ محمد ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو روحانی طور پر تم سے ملادے اور اس طرح ان کے صحابہ میں داخل کر دے لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ تم خودی اور خود پسندی، سستی ،غفلت اور دین سے بے اعتنائی ترک کر دو۔اس لئے جو لوگ روحانی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ جہاں تک ہو سکے جلسہ