خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 770 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 770

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کی کارروائی کو دیکھیں اور دوسرے اوقات بھی باہم واقفیت بڑھانے اور محبت و اخوت پیدا کرنے میں صرف کریں اور ذکر الہی بہت کریں کیونکہ یہ دن میلے کے نہیں بلکہ خصوصیت سے خشیت الہی کے ہیں۔یہ تین دن اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کر دو جو شخص تین دن بھی خدا کیلئے وقف نہیں کر سکتا اس کی سے یہ کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ساری عمر کیلئے اسے بلائے تو وہ لبیک کہے گا۔پس ان ایام میں یہ عہد کر لو کہ انہیں تقویٰ اور خشیت کے حصول کی کوشش ، ذکر الہی اور دینی باتیں سننے اور اخوت و محبت کے بڑھانے میں صرف کرو گے اور ان ایام کو آوارہ پھرنے : دکانوں پر گپیں ہانکنے ، بازاروں میں فضول باتیں کرنے اور فساد و جھگڑے میں ضائع نہیں کروں گے۔جو دوست ابھی نہیں آئے جو آئے ہوئے ہیں وہ اُن تک بھی میرا یہ پیغام پہنچا دیں تا وہ بھی زیادہ سے زیادہ برکت حاصل کر سکیں۔اس کے بعد میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں لیکن اس لئے نہیں کہ یہاں کے کام کرنے والوں کیلئے سہولت پیدا ہو بلکہ آپ لوگوں کے فائدہ کیلئے اور وہ یہ ہے کہ اتنے بڑے ہجوم غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں دوستوں کو چاہئے کہ پیار اور محبت سے کام لیں اور یہ خیال کر لیں کہ جتنی تکلیف انہیں پہنچے گی اتنا ہی ثواب انہیں حاصل ہوگا۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ذمہ وا را فسروں کو توجہ نہ دلائیں اس کے تو یہ معنے ہوں گے کہ نقص دور نہیں ہو سکے گا اور انتظامات میں اصلاح نہ ہو سکے گی۔نقص کی افسروں تک اطلاع ضرور پہنچائیں لیکن اپنے دلوں میں ملال نہ پیدا ہونے دیں۔جہاں غفلت اور سستی کا دور کرانا ایک بچے اور مخلص مؤمن کا فرض ہے وہاں اس کا یہ بھی فرض ہے کہ اپنی اصلاح کا بھی خیال رکھے اور اس کا طریق یہی ہے کہ دل میں میل نہ آنے دے بلکہ خیال کرے کہ یہ تکلیف بھی میرے لئے ثواب کا موجب ہوگی۔اس کی شکایت شکایت کیلئے نہیں بلکہ اس لئے ہو کہ نقص دور ہو کر سلسلہ کے کاموں میں ترقی ہو۔کام کرنے والوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تین بلکہ چار پانچ دن خاص ہیں جن میں وہ برکتیں حاصل کر سکتے ہیں۔سینکڑوں راتیں ان پر ایسی آئی ہوں گی کہ وہ غفلت کی نیند سوئے ہوں گے اور کئی ایسی بھی آئی ہوں گی کہ صبح اُٹھ کر فجر کی نماز مشکل سے ادا کی اور سورج نکل آیا وہ غفلت کی راتیں ایک تاریک چادر بن کر ان کے گرد چھا گئیں اور قرب الہی کے حصول میں رکاوٹ