خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 768 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 768

خطبات محمود ۷۶۸ سال ۱۹۳۶ کے مصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بلند ہوئی اور کہہ رہی ہے کہ اے احمد یو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اور آپ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو فیق دی اور اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔پس ان کیفیات کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں کہ آپ کو یہ ایام کس تقویٰ ، کس محبت و عشق سے گزارنے چاہئیں۔بظاہر ان ایام میں ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے نظر آتے کی ہیں لیکن دراصل خدا تعالیٰ نے ایک ہاتھ بڑھایا ہے جو ہمیں بلا رہا ہے اور ہماری نگاہیں اس کی طرف ہیں پس اپنی ذمہ داری کو محسوس کرو اور ان ایام کو بیکاری اور آوارگی ، سستی و غفلت میں نہ گزار و بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے ، ذکر الہی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سننے میں گزارو۔ذرا سوچو تو سہی کہ کون ایسا محبت و عشق کا دعویٰ کرنے والا ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول اسے آواز دے تو وہ راستہ میں کھڑا ہو کر بندروں کا تماشہ دیکھنے لگے۔یہ دن حشر کے ایام سے مشابہ ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں اپنے دودھ پینے والے بچہ کو بھی بھلا دے گی۔آج نی اپنی ضرورتوں ، رشتہ داروں، دوستوں، اپنے کاموں ، اپنے جذبات اور احساسات کو بھی بھول جاؤ تمہارے کانوں میں ایک ہی آواز گونجے اور وہ خدا تعالیٰ کی آواز ہو اور تمہارا فرض ہے کہ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھو۔ہم میں سے کتنے ہوں گے جو کہتے ہوں گے کاش! ہم محمد ﷺ کے زمانہ ای میں ہوتے اور اس شمع کے گرد پروانوں کی طرح جل کر راکھ ہو جاتے۔پھر کتنے ہوں گے جن کے دل میں یہ حسرت ہوگی کہ کاش! ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پاتے اور خدا تعالیٰ کے اس ماً مور، آخری مصلح، رسول کریم ﷺ کے بروز ، مظہر اور خلیفہ کے ارد گرد اپنے نفوس اور اپنے اموال قربان کر دیتے۔ایسے تمام لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے بندے کبھی مرا نہیں کرتے بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔دنیا میں لوگ مرتے آئے ہیں اور سب مرتے جائیں گے مگر رسول کریم ﷺ دائمی زندگی پانے والے انسان ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حی ہونے کی تی چادر آپ پر ڈال دی ہے اور آپ کو کوئی نہیں مار سکتا۔اسی طرح سب دنیا مرتی ہے اور مرتی جائے گی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کی چادر انہیں اوڑھادی ہے اور اب کوئی انہیں نہیں مار سکتا پس یہ مت خیال کرو کہ تم کس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابی بن سکتے ہو اور کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مل سکتے ہو۔