خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 767 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 767

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ رسول تم کو بلاتا ہے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ نے صرف انصار کو آواز دی۔اس میں کئی حکمتیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس شکست کی وجہ مکہ کے بعض لوگ تھے اور چونکہ مہاجرین کے اہل وطن نے کمزوری اور غداری دکھائی اس لئے اس رنگ میں آپ نے لطیف طور پر ان کو زجر کی اور صرف انصار کو آواز دی چنانچہ آپ نے فرمایا عباس انصار کو آواز دو۔اور جس وقت حضرت عباس نے بلند آواز سے یہ فقرہ دہرایا کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اُس وقت اسلامی لشکر کی حالت تھی کہ ایک صحابی کا بیان ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ ہمارے قبضوں سے نکلے جار ہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ مکہ اور مدینہ سے ورے یہ نہیں رکیں گے۔میدان سے بھا گنا مسلمان جانتے ہی نہ تھے اور ان کی غیر تیں یہ برداشت ہی نہیں کر سکتی تھیں کہ ان کی سواریاں ان کو بھگا لے جائیں اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم سارا زور انہیں روکنے کیلئے لگا رہے تھے مگر کامیاب نہ ہو سکتے تھے۔ہر بھاگنے والا گھوڑا دوسرے کو اور بھگاتا تھا اور ہر بھاگنے والا سپاہی دوسروں کو اور پراگندہ کرتا تھا۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے اور سمجھتے تھے کہ میدان میں واپس آنا ہماری طاقت سے باہر ہے کہ اتنے میں حضرت عباس کی گوجنے والی آواز آئی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے جسے سنتے ہی یوں معلوم ہوا کہ گویا ہم پر بجلی گر گئی ہے، حشر کا دن ہے اور صور اسرافیل پھونکا جارہا ہے۔ہمیں دنیا و مافیها کا کوئی ہوش نہ تھا صرف ایک ہی آواز تھی جو ہمارے کانوں میں گونج رہی تھی اور وہ عباس کی آواز تھی ہم نے گھوڑوں کو موڑنے کی آخری کوشش کی جو مُڑ گئے مُڑ گئے اور جو نہ مڑے ہم نے تلوار میں نکال کر اُن کی گردنیں اڑا دیں اور پیدل دوڑ پڑے اور لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ الله ! لَبَّیک کہتے ہوئے آنا فانا آپ کے گرد جمع ہو گئے سے۔یہ حالت اخلاص اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے کا واقعہ میں نہیں ہے جانتا لوگوں کے قلوب پر کیا اثر کرتا ہو مگر میرے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ سر سے لے کر پاؤں تک لرزه ای طاری ہو جاتا ہے۔تیرہ صدیاں اس پر گزرچکی ہیں جب بھی یہ واقعہ میرے سامنے آتا ہے میری روح لبیک کہتی ہوئی رسول کریم ﷺ کی طرف جاتی ہے اور میں ہمیشہ اس واقعہ کو حشر کے میدان سے تشبیہہ دیا کرتا ہوں۔آج بھی خدا تعالی کی آواز محمد ﷺ میں سے ہوتی ہوئی خدا کے مامور اور آخری زمانہ