خطبات محمود (جلد 17) — Page 757
خطبات محمود 202 سال ۱۹۳۶ کرلیں گے، اپنی بیوی اور بچوں کی صحت تباہ کر لیں گے لیکن کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔زمیندار ماں اپنے بچہ کو بھوکے رہنے کی وجہ سے خون پلاتی جائے گی مگر وہ اسی گھمنڈ میں رہیں گے کہ ہمارا باپ زمیندار تھا ہم موچی کا کام کس طرح کر سکتے ہیں ، ہم نجاری اور معماری کا کام کس طرح کر سکتے ہیں ، ہم جو لاہوں کا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔پس مسلمانوں کی تباہی کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ وہ کام نہیں کرتے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ ان میں سے جو کام کرتے ہیں وہ سارا رو پیدا اپنے گھروں میں رکھ لیتے ہیں غرباء پر اسے خرچ نہیں کرتے حالانکہ اسلام چاہتا ہے کہ لوگ کمائی کریں اور اس میں سے کچھ اپنی ذات پر خرچ کریں اور کچھ دوسرے لوگوں پر صرف کریں۔أَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِث سے کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو نعمت تمہیں ملے اسے دنیا میں پھیلاؤ۔تحدیث دو ہی طرح ہو سکتی ہے ایک یہ کہ کچھ اپنی ذات پر اس روپیہ کو خرچ کیا جائے اس سے بھی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ اسے نعمت ملی ہے اور کچھ غریبوں میں تقسیم کرے اس سے بھی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ اس کے پاس دولت ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی گر بتایا ہے کہ یہ گر بغیر سادہ زندگی اختیار کئے کام نہیں آسکتا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود بار بار توجہ دلانے کے ہماری جماعت کا ایک حصہ ابھی ایسا ہے جس نے اس کی قیمت کو نہیں سمجھا۔کئی کئی طریق پر دوست اس سے پہلو تہی کر لیتے ہیں۔گزشتہ سفر کے موقع پر ہی ایک دوست نے پوچھا ( وہ نہایت مخلص احمدی ہیں مگر چونکہ پرانی عادتیں زیادہ کھانا کھانے کی پڑی ہوئی ہیں اس لئے بعض افراد کی طبیعت کسی نہ کسی آڑ میں اس مطالبہ سے پہلو تہی کا جواز تلاش کرنا چاہتی ہے ) کہ میں تحریک جدید پر تو عمل کرتا ہوں لیکن اس طرح کہ ہم ایک جگہ چار آدمی ہیں ہم چاروں ایک ایک کھانا پکوا لیتے ہیں اور پھر سب مل کر کھا لیتے ہی ہیں اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ میں نے کہا چار کھانے تو آج کل ایک وقت امراء بھی نہیں کھایا کرتے آپ کس طرح چار کھانے کھا کر سمجھتے ہیں کہ آپ نے تحریک جدید کے اس مطالبہ پر عمل کر لیا۔اب دیکھو انہوں نے اپنی طرف سے تحریک جدید پر بھی عمل کیا اور چار کھانے بھی کھالئے پھر میں نے انہیں کہا میں صرف یہی نہیں چاہتا کہ ایک کھانا پکانے کی وجہ سے لوگوں کو اخراجات میں کفایت رہے بلکہ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ زبان کے چسکا کی عادت نہ پڑے۔اب چار کھانے