خطبات محمود (جلد 17) — Page 756
خطبات محمود ۷۵۶ سال ۱۹۳۶ آجائے تو یقیناً بہت سی دولت بچ جائے گی جو غرباء اور ملک کی ترقی کے کام آئے گی اور اس طرح آہستہ آہستہ تمام ملک یا جماعت ایسے مقام پر آجائے گی کہ غریب اور امیر کا فرق بہت کم ہو جائے گا۔یوں شریعت نے دولت کمانے سے منع نہیں کیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے وہ جب فوت ہوئے تو انہوں نے اڑھائی کروڑ روپیہ کی جائداد چھوڑی اُس زمانہ میں تو روپیہ کی قیمت بہت کم تھی لیکن آج بھی جبکہ روپیہ کی قیمت گری ہوئی ہے مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس قدر جائدا در رکھتے ہیں لیکن خود ان کی اتنی سادہ زندگی تھی کہ ان کا روزانہ خرچ چار آنے ہوا کرتا تھا اور وہ اپنی آمد کا اکثر حصہ غرباء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے یہ زندگی تھی جو اسلامی زندگی تھی۔اسلام نے انہیں کمانے سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے کمایا اور کما کر بتادیا کہ یوں کمایا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف چونکہ اسلام کا یہ بھی حکم تھا کہ اپنی زندگی کو ایسا پُر تکلف نہ بناؤ کہ جو کچھ کماؤ وہ سب اپنی ذات پر خرچ کر دو اور غرباء کیلئے کچھ نہ رہنے دو اس لئے وہ باوجود دولتمند ہونے کے غریب رہے اور یہی چیز ہے جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں شخص قربانی کر رہا ہے۔جب تک مسلمانوں میں ایسے لوگ رہے جو کمانے والے اور غرباء پر خرچ کرنے والے تھے اس وقت تک مسلمانوں میں غربت کا وہ زور نہ تھا جو آجکل ہے لیکن جب کمانے والے نہ رہے یا ایسے کمانے والے پیدا ہو گئے جنہوں نے سب روپیہ اپنے ہاتھوں میں جمع کر لیا اور سوائے اپنی ذات اور ضروریات کے اور جگہ خرچ نہ کیا تو مسلمانوں پر تباہی آگئی۔چنانچہ آجکل مسلمانوں کی تباہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اوّل وہ کماتے نہیں جہاں دیکھو مسلمان بریکا رہی برکار دکھائی دیتے ہیں اور اگر انہیں کوئی کام کرنے کو کہا جائے تو اس میں وہ اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا باپ ایسا تھا پس جب تک ہمیں باپ جیسا عہدہ نہ ملے گا ہم کام نہیں کریں گے۔اسی طرح زمیندار ہیں وہ تو نوکریاں نہیں کریں گے یا کوئی اور پیشہ اپنی روزی کمانے کیلئے اختیار نہیں کریں گے اور جب انہیں کہا جائے کہ کیوں کوئی کام نہیں کرتے تو کہہ دیں گے ہم زمیندار ہیں ہم کوئی اور پیشہ کس طرح اختیار کر سکتے ہیں۔پس وہ کوئی پیشہ اختیار نہیں کریں گے، کوئی فن نہیں سیکھیں گے، کوئی اور ذریعہ اپنی روزی کمانے کیلئے اختیار نہیں کریں گے ، بھوکے مریں گے ، اپنی صحت خراب