خطبات محمود (جلد 17) — Page 755
خطبات محمود ۷۵۵ سال ۱۹۳۶ فائدہ پہنچے۔مثلاً تجارتیں کرو کیونکہ تجارت میں ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔بعض کو نوکر یوں کے ذریعہ فائدہ پہنچ جاتا ہے، بعض کو دلالی کے ذریعہ سے ، بعض کو حرفت کے ذریعہ سے۔ہاں اسلام نے یہ بھی کہہ دیا کہ فضول باتیں نہ کرو کیونکہ اس سے غرباء کے دلوں میں حرص پیدا ہوتی ہے اور ان کے قلوب کو تکلیف پہنچتی ہے۔مثلاً شادیوں کے موقع پر بڑی تباہی اس وجہ سے آتی ہے کہ لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکے والے بری دکھاتے ہیں اور لڑکی والے جہیز دکھاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غریب لڑکیاں جو ان چیزوں کو دیکھتی ہیں وہ یا تو دل ہی دل میں کڑھتی آتی ہیں یا اگر بیوقوف ہوں تو ماں کو آکر چمٹ جاتی ہیں کہ ہمارے لئے بھی ایسی چیزیں تیار کی جائیں۔اسی طرح مردوں میں سے کئی جب اس قسم کے نظارے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں خواہش پیدا ہوتی تھی بة ہے کہ جب ہماری شادی ہوگی تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے حالانکہ اول تو امارت کے یہ معنی ہی نہیں کہ روپیہ ضائع کیا جائے ہاں چونکہ شادیاں خوشی کا موقع ہوتی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود کی علیہ السلام نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ ایسے موقع پر کچھ خرچ کیا جائے کیونکہ ایسے موقع پر خرچ کرنا گناہ نہیں بلکہ لڑکی کا دل رکھنا مرد کیلئے نہایت ضروری ہے لیکن اس کیلئے وہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے جو بداثر ڈالے اور غرباء کیلئے تکلیف کا موجب بنے۔اگر مسلمان قرآن کریم کا علم رکھتے تو وہ سمجھتے کہ قرآن کریم نے ایسے دکھاوے سے منع کیا ہوا ہے چنانچہ وہ فرماتا ہے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَامَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهَا له اگر کسی کو ایسی چیزیں ملیں تو تم ان کی طرف جھانکا نہ کرو اور نہ اپنے دل کو اس طرح میلا کیا کرو۔پس اگر دکھانے کی والے دکھاتے اور دیکھنے والے انکار کر دیتے اور کہہ دیتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ کہ اگر کوئی دولتمند ہوں اور وہ اپنی چیزیں دکھا کر تمہارا دل دکھانا چاہیں تو تم وہ چیزیں دیکھا نہ کرو اور اپنے خدا کی طرف نظر رکھا کرو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہارَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِیر سے کہ اے میرے رب ! میں محتاج تو ہوں مگر میں محتاج ہو کر بندوں کی طرف نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ تیری طرف دیکھتا ہوں۔پس تیری طرف سے جو آ جائے اسے میں قبول کرنے کیلئے تیار ہوں تو نہ انہیں تکلیف ہوتی اور نہ وہ اندر ہی اندر گڑ ھتے۔پس ان رسوم کے نتیجہ میں کمزور طبائع پر برا اثر پڑتا ہے لیکن اگر ملک میں سادہ زندگی الـ