خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 718 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 718

خطبات محمود ZIA ۴۲ سال ۱۹۳۶ لیلۃ القدر کیا ہے اور اس کے حصول کیلئے کیا کرنا چاہئے (فرموده ۴ / دسمبر ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے سب سے پہلے سال تحریک جدید کا اعلان کرتے ہوئے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ایک تو وہ آپس میں صلح کریں ، لڑائی جھگڑوں کو چھوڑ دیں اور ایک کے ایسے قصور جو ذاتی ہوں اور ایسے جھگڑے جو دینی نہ ہوں اُن کو بھلا دیں اور دوسرے اپنے بقائے ادا کرنے کی طرف توجہ کریں کیونکہ جو پچھلا بقایا ادا نہیں کرتا وہ آئندہ کیلئے کس طرح وعدہ کرسکتا ہے۔میری اس ہدایت کی سند رسول کریم ﷺ کے ایک بیان سے بھی ہوتی ہے جو کہ رمضان کی بعض ساعات کے متعلق ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کے ماتحت اس تحریک کے پہلے حصہ کا تیسرے سال کیلئے اعلان کرتے وقت وہی مہینہ آ گیا ہے جس میں اس راز کالی انکشاف کیا گیا ہے اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ دوستوں کو پھر اس کی طرف توجہ دلا دوں۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس گھڑی کی خبر دی جس میں دعائیں بالعموم سنی جاتی ہیں اور ایسی ساعات کا علم ہونا کوئی معمولی بات نہیں اس لئے رسول کریم ﷺے اس خوشی میں گھر سے باہر آئے تاباقی احباب کو بھی اُس وقت کی اطلاع دیں اور وہ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں مگر آپ جب مسجد میں تشریف لائے تو دو مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے آپ اُن کی اس لڑائی اور اختلاف کے دور کرنے میں مصروف ہو گئے اور ادھر سے آپ کو اپنی توجہ ہٹانی پڑی اس صلى الله