خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 717 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 717

خطبات محمود جائے گا۔سال ۱۹۳۶ پس اے دوستو ! آؤ کہ ہماری جانیں اسلام کے مقابلہ میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں ہم میں سے ہر ایک شخص خواہ اُس کو مال ملا ہے یا نہیں ملا اپنی اپنی توفیق کے مطابق خدا کے سامنے اپنی قربانی پیش کر دے اور اس قربانی کو پیش کرنے کے بعد ایک مُردے کی طرح الہی آستانہ پر گر جائے یہ کہتے ہوئے کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! میری اس حقیر نذر کو قبول کر اور مجھے ا دروازے سے مت دُھتکار۔اَللَّهُمَّ آمِينَ ثُمَّ آمِينَ ل المائدة : ۴ ( الفضل ۳ دسمبر ۱۹۳۶ء) پنے ل بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة الفتح باب قوله إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحه ۱۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۳۱۳ھ الشعراء: ۲۲۰ بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الايمان