خطبات محمود (جلد 17) — Page 716
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ میری کوئی مخفی شامت اعمال ایک پتھر بن کر اس پر بیٹھ گئی اور اس میں سے کوئی روئیدگی نکلنے دی۔اے خدا! اب میں کیا کروں کہ جب میرے پاس کچھ تھا میں نے بے احتیاطی سے اُسے اس طرح خرچ نہ کیا کہ نفع اُٹھاتا مگر آج تو میرا دل خالی ہے میرے گھر میں ایمان کا کوئی دانہ نہیں کہ میں بوؤں۔اے خدا! میرے اسی ضائع شدہ پیج کو پھر مہیا کر دے اور میری کھوئی ہوئی متاع ایمان مجھے واپس عطا کر اور اگر میرا ایمان ضائع ہو چکا ہے تو اپنے خزانے سے اور اپنے ہاتھ سے اپنے اس دھتکارے ہوئے بندہ کو ایک رحمت کا بیج عطا فرما کہ میں اور میری نسلیں تیری رحمتوں سے محروم نہ رہا جائیں اور ہمارا قدم ہمارے کچی اور اعلیٰ قربانی کرنے والے بھائیوں کے مقام سے پیچھے ہٹ کر پڑے بلکہ تیرے مقبول بندوں کے کندھوں کے ساتھ ہمارے کندھے ہوں۔اے خدا! بہت ہیں جو اعمال کے زور سے تیرے فضل کو کھینچ لائے پر ہم کیا کریں کہ ہمارے اعمال بھی اُڑ گئے۔کیا تیرا رحم ، کیا تیرا بے انتہاء رحم غیرت میں نہ آئے گا اور ہم جیسے بندوں کو بے عمل ہی اپنے فضل کی چادر میں چھپا نہ لے گا۔پس تم اس طرح خدا کے آگے زاری کرو تا کہ تمہارے دلوں کے زنگ دور ہو جائیں اور تمہاری مُردہ روح پھر زندہ ہو جائے اور تم کو پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی توفیق ملے اور تمہارے عمل کا نتیجہ پہلے سالوں سے بھی زیادہ دشمن کے لئے حسرت اور یاس کا موجب بنے۔اگر تم سچے دل سے خدا کی طرف جھکو گے تو وہ یقینا تمہارے دلوں کو کھول دے گا اور تم پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ خدا اور اس کے دین کے لئے قربانیوں کے لئے میں تم کو بلاتا ہوں انہی میں اسلام کی بہتری ہے کی اور انہی میں اسلام کی شوکت ہے۔خدا چاہتا ہے کہ وہ اپنی قربان گاہ پر مسیح محمدی کے بروں کی کی قربانی کرے اور ان کے خون کو اسلام کی خشک شدہ انگور کی بیل کی جڑ میں ڈالے تا کہ وہ پھر ہری ہے ہو جائے اور پھر اس میں خدا کے فضل کے انگور لگنے لگ جائیں۔اگر تم میں سے کسی نے انجیل پڑھی کی ہو تو اُس کو معلوم ہوگا کہ روحانی بادشاہت کو انگور کے باغوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انگور کی ہی بیل ایک ایسی بیل ہوتی ہے جس کو سر سبز و شاداب کرنے کیلئے خون کی کھاد ڈالی جاتی ہے۔پس اس کی مثال میں اسی طرف اشارہ تھا کہ خدا کے دین کو تازہ کرنے کیلئے ہمیشہ انسانی قربانیوں کی ضرورت ہوگی اور انسانوں کے خون اس باغ کی جڑوں میں گرا کر اُسے پھر زندہ اور شاداب کیا