خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 65

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء قیمتی دماغ ضائع کر رہے ہیں، اپنی مفید ترین طاقتیں سکتے اور بیکار بیٹھ بیٹھ کر ضائع کر رہے ہیں ہم انہیں دیکھتے اور کوئی شور نہیں مچاتے اور نہ ان کی درستی کے ذرائع اختیار کرتے ہیں۔پس بریکاری ہمیشہ کام کو ذلت سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اگر ہم کام کرنے لگ جائیں اور لوگ دیکھیں کہ چھوٹے بڑے سب کام کر رہے ہیں تو ذلت کا خیال لوگوں کے دلوں سے خود بخو دنکل جائے اور لوگ کام کرنے میں عزت محسوس کرنے لگیں اور جس دن کام میں لوگ عزت محسوس کرنے لگیں گے ، جس دن نکتھا اور بیکار بیٹھنا لوگ اپنے لئے ہلاک کرنے والی زہر سمجھیں گے اُس دن سمجھو کہ کی دنیا کی بلائیں ٹل گئیں اور روحانیت کی بنیاد قائم ہوگئی۔کیونکہ کام ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے کرنے کے نتیجہ میں جہاں دُنیوی مصائب کا خاتمہ ہوتا ہے وہاں روحانیت کا بھی دروازہ کھل جاتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًال اے رسول ! طیب کھاؤ اور اعمال صالحہ کرو۔اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ طیب کھانے کے نتیجہ میں اعمال صالحہ پیدا ہوتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں ہوسکتا کہ بعض لوگ طیب کھائیں لیکن ان کے پاس دین نہ ہو اور اس وجہ سے شریعت کے مطابق ان سے اعمال صالحہ سرزد نہ ہوں لیکن جن کے پاس دین ہو اور وہ طیب کھائیں ان سے ضرور اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔مثلاً یورپ کے لوگ ہیں وہ طیب کھانے کے عادی ہیں بڑی محنت اور مشقت سے کام کرتے اور اپنی روزی کا سامان مہیا کرتے ہیں لیکن دین ان کے پاس نہیں اگر دین ان کے پاس پہنچ جائے تو چونکہ وہ طیب کھاتے اور مشکل سے مشکل کاموں کو سر انجام دینے کے عادی ہیں اس لئے وہاں اسلام نہایت کی شاندار نتیجہ پیدا کرے۔جب میں لنڈن گیا تھا تو یورپ کے لوگوں کے متعلق مجھ پر یہ اثر ہوا تھا کہ ان میں روحانیت ایشیا سے زیادہ ہے۔ان میں دین کے متعلق ایک جستجو اور تڑپ پائی جاتی ہے پھر ان میں سنجیدگی اور متانت ایشیا والوں سے بہت زیادہ ہے۔ہندوستانی جو پڑھے لکھے ہیں ان کی مجلس میں بیٹھ کر دیکھ لو اور پھر انگریزوں کی مجلس میں بیٹھ کر دیکھ لو تمہیں معلوم ہوگا کہ انگریزوں کا مذاق بہت زیادہ سنجیدہ ہے۔ہندوستانیوں میں چھچھورا پن ہوگا اور پھر بدتہذیبی اور ناشائستگی پائی جائے گی جب بھی دو چار ہندوستانی مل کر بیٹھیں گے کہیں کھانے کا ذکر ہوگا اور اس پر مذاق اُڑایا جارہا ہوگا ،