خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 64

خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۶ء الے سب شہر کو بلا لیں کہ آؤ ہمارے محلہ کی صفائی کر دو۔آخر کیا وجہ ہے کہ روٹی کی دعوت میں تو ہم جا سکتے ہیں لیکن کام کی دعوت میں ہم نہیں جا سکتے۔تو یہ ساری تدبیریں میں نے بتائی تھیں مگر چودہ مہینے ہو۔و گئے کسی نے ہمیں نہیں بلایا۔دوسری دعوتیں تو لوگ اس کثرت سے کرتے ہیں کہ مجھے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اور ان کا اصرار ہوتا ہے کہ آج روٹی ہمارے گھر سے کھائیں۔حالانکہ روٹی انسان اپنے گھر میں روز کھاتا ہی ہے۔پس ایسی دعوت کا کیا فائدہ جو روز میسر آتی ہے وہ دعوت کرو جو لوگوں کو میسر نہیں آتی۔کام کیلئے بلا ؤ اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی لوگوں کو عادت ڈالو تا فارغ اور سکتے بیٹھے رہنے والوں کو بھی کام کی عادت پڑے۔اور اگر کام کر کے لوگوں کو کھانے کی عادت ہو جائے تو پھر چاہے کوئی لاکھ روپیہ بھی دے اور کہے کہ قوم سے غداری کرو تو وہ غداری کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگا کیونکہ اُسے طیب کھانے کی عادت ہوگی۔پس کام نہ کرنے کے نتیجہ میں اخلاق بگڑ جاتے ہیں ، قوم میں بیکاری اور آوارگی پیدا ہوتی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی وہ عطا کردہ طاقتیں جن کی قیمت میں دنیا کی کوئی چیز پیش نہیں کی جاسکتی ضائع ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی دی ہوئی آنکھ کتنی قیمتی چیز ہے لیکن جب کسی کی آنکھ ضائع ہو جائے تو کیا کرڑوں روپیہ دے کر بھی وہ آنکھ بنوا سکتا ہے؟ اسی طرح خدا تعالیٰ کا دیا ہو ا دماغ جب خراب ہو جاتا ہے اور انسان پاگل ہو جاتا ہے تو بسا اوقات سارے ڈاکٹر مل کر بھی اُسے اچھا نہیں کر سکتے۔پس کام نہ کرنے کے نتیجہ میں علاوہ اور نقصانات کے ایک بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عطا کر وہ طاقتیں ضائع چلی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص ایک ہزار روپیہ ڈھاب میں ڈال دے تو قادیان کے سارے لوگ اُسے ملامت کرنے لگ جائیں گے کہ کیسا بیوقوف ہے اس نے ہزار روپیہ ڈھاب میں ڈال دیا لیکن اس سے لاکھوں گنے نہیں کروڑوں گنے زیادہ قیمت کا دماغ لوگ ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور کوئی نہیں کہتا کہ کتنا اندھیر ہے حالانکہ غریب سے غریب اور ان پڑھ سے ان پڑھ کے دماغ کے مقابلہ میں ہزاروں روپیہ کی کوئی حقیقت نہیں۔جاہل سے جاہل انسان سے کہو کہ ہم تجھے ہزار روپیہ دیتے ہیں تو اپنا بھیجا نکال دے تو وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوگا۔پس کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ اگر کوئی ڈھاب میں ایک ہزار روپیہ ڈال دے تو سارے لوگ مل کر شور مچادیں کہ اتنا بڑا بیوقوف ہم نے کبھی نہیں دیکھا لیکن جو لوگ اپنے کروڑوں روپیہ سے زیادہ