خطبات محمود (جلد 17) — Page 66
خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۶ء کہیں ہوا خارج ہونے پر قہقہے لگ رہے ہوں گے، کہیں ڈکار پر ہنسی ہورہی ہوگی۔اس کے مقابلہ میں شریف انگریزوں کی مجلس میں تم دس سال رہو تمہیں ان باتوں کا نشان تک نظر نہیں آئے گا۔یہاں قادیان میں پڑھے لکھے کئی آدمی ہیں جو ان گندی باتوں میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی مجلس میں اس قسم کے لغو اور بیہودہ باتوں کا ذکر ہوتا ہے اور ان پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے۔بچپن میں جب میں ہائی سکول میں پڑھا کرتا تو دو استاد تھے انہیں دیکھ کر مجھے اتنی گھن اور نفرت آتی جو بیان سے باہر ہے۔وہ جب بھی ایک دوسرے کی شکل دیکھتے کہیں پاخانے کا مذاق شروع ہو جاتا ، کہیں ہوا خارج ہونے کے متعلق بنی کرنے لگ جاتے اور مجھے ان کی باتیں سُن سُن کر اتنی گھن اور نفرت آتی کہ میں چاہتا وہاں سے بھاگ جاؤں۔یہ چھچھورا پن، یہ کمینگی، یہ رذالت اور یہ بیہودگی اور یہ گندہ مذاق کیوں ہے؟ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کا دین تمہارے پاس ہے یہ رذالت اور کمینگی اسی لئے ہے کہ تمہارے وقت کی کوئی قیمت نہیں اور جب انسان کسی مفید کام پر اپنا وقت خرچ نہیں کرتا تو کوئی نہ کوئی بکواس شروع کر دیتا ہے۔پس جب وہ حقیقی کام نہیں کرتے تو اس قسم کی بکواس شروع کر دیتے ہیں۔تم اپنے ارد گرد کے لوگوں پر نظر دوڑاؤ اور دیکھو کہ کیا یہ باتیں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ مسلمانوں میں کہیں قرآن کریم کی آیتیں ہنسی کے طور پر پڑھی جارہی ہوں گی ، کہیں حدیثیں ہنسی کے طور پر پڑھی جا رہی ہوں گی ، کہیں اسلامی اصطلاحیں مذاق کا نشانہ بن رہی ہوں گی، کہیں کھانے اور دعوتوں کا ذکر ہوگا۔ایک کہے گا تم فلاں دعوت میں تھے تم نے کتنا کھایا دوسرا کہے گا تم فلاں شادی میں تھے کیا کیا کھایا۔پھر کہیں کسی کے ڈکار لینے پر مذاق سوجھ جائے گا، کہیں ہوا خارج ہونے پر قہقہہ لگ جائے گا۔تم بتاؤ کیا اس قسم کی رزیلا نہ اور کمینہ حرکات تمہارے ملک اور سوسائٹی میں ہوتی ہیں یا نہیں؟ پھر سوچو کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ تم میں باتیں پائی جاتی ہیں۔اگر تم غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ یہ باتیں محض اس وجہ سے ہیں کہ تمہیں کام کرنے کی عادت نہیں۔اگر کام کرنے کی عادت ہو تو طبیعت میں سنجیدگی اور متانت پیدا ہو جاتی ہے اور نہ صرف اس قسم کی کمینہ حرکات میں انسان حصہ نہیں لیتا بلکہ اس کا وقت ضائع ہونے لگتا ہے تو اسے غصہ آتا ہے۔پس کام کرنے کی عادت ڈالو اور اپنے اوقات کی قدر کرو۔عیسائیت کتنی گھناؤنی چیز ہے، کتنی قابل نفرت چیز ہے فطرت اس کے خلاف بغاوت کرتی