خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 572

خطبات محمود ۵۷۲ ۳۳ سال ۱۹۳۶ جماعت کو تدریجی طور پر اب قربانیوں کے میدان میں آگے سے آگے قدم رکھنا ہوگا (فرموده ۱۱ ستمبر ۱۹۳۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- کھانسی اور گلے کی تکلیف کی وجہ سے میرے لئے بلند آواز سے بولنا بالکل جائز نہیں لیکن چونکہ بخار میں تخفیف ہے اور دو جمعے درمیان میں میں یہاں خطبہ نہیں پڑھا سکا اس اس لئے یہ نے مناسب سمجھا کہ تکلیف اٹھا کر بھی آج خطبہ جمعہ خود پڑھاؤں۔میں نے چند جمع ہوئے غالباً ۷ / اگست کو جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تحریک جدید کے چندہ کے متعلق میں بعض دوستوں میں سستی اور غفلت دیکھتا ہوں حالانکہ اس چندہ کی تحریک طوعی تھی جبری نہ تھی۔یعنی ہر شخص کو اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اس چندے میں شامل ہو یا نہ ہو۔صرف تحریک کی جاتی تھی اور ہر شخص کو اس میں شامل ہونے کا پابند نہیں بنایا جاتا تھا۔اس سستی کو دیکھ کر یہ خطرہ بھی ہوسکتا تھا کہ یہ چیز تو ہمارے سامنے آ جاتی ہے مگر اس تحریک کے وہ دوسرے حصے جو سامنے نہیں آتے ممکن ہے دوست ان میں بھی سستیاں کر رہے ہوں مثلاً ایک کھانا کھانے کی تحریک ہے یا سادہ لباس کی تحریک ہے یا بیکار نہ رہنے کی تحریک ہے یا تبلیغ کی تحریک ہے ان ساری قسم کی تحریکوں کے متعلق قدرتی طور پر یہ شبہ پیدا ہو: