خطبات محمود (جلد 17) — Page 573
خطبات محمود ۵۷۳ لازمی ہے کہ شاید ان میں بھی کسی قسم کی سستی ہو رہی ہے۔سال ۱۹۳۶ میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں جماعت میں ایک اصلاح تو ہوئی ہے اور وہ یہ کہ چندہ کی رفتار پہلے سے بڑھ گئی ہے اور اس خطبہ کے بعد اس وقت تک جو دس اور گیارہ ہزار کے درمیان پچھلے سال اور اس سال کے چندہ میں فرق تھا وہ کوئی ساڑھے چھ ہزار کے قریب آ گیا ہے۔گویا چار یا ساڑھے چار ہزار روپیہ کی کمی کو دوستوں نے پورا کیا ہے لیکن ابھی تک جماعت کے تمام افراد میں وہ تحریک پیدا نہیں ہوئی جو ہونی چاہئے تھی۔جن جن افراد نے علیحدہ طور پر چندے لکھوائے ہیں انہوں نے زیادہ جوش سے چندے ادا کئے ہیں لیکن جماعتی چندوں میں ابھی بہت کچھ کمی ہے میں الفضل کی کسی قریب کی اشاعت میں بعض بڑی جماعتوں کی لسٹ شائع کروں گا تا کہ ان کی جماعتوں کو توجہ ہو )۔در حقیت بہت سی رقم جو جمع ہوئی ہے وہ افراد کی طرف سے جمع ہوئی ہے ورنہ بہت سی جماعتیں ایسی پائی جاتی ہیں جنہوں نے بحیثیت جماعت نہایت سستی اور غفلت دکھائی ہے میں ان جماعتوں کو ستمبر تک کی مہلت دیتا ہوں کہ وہ ستمبر تک اپنے بقائے پورے کرنے کی کوشش کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے دوست ہی ستمبر تک بقائے ادا کریں کیونکہ مہلتیں بعض کی نومبر تک ، بعض کی جنوری تک اور بعض کی اس سے بھی بعد تک ہیں لیکن بہر حال جس حد تک حصہ ان کی طرف ہے اس وقت تک پہنچ جانا چاہئے۔اپنی اپنی رقم کے مطابق وہ اس کو ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں ور نہ اطلاع دیں کہ کیوں وہ اس وعدے کو پورا کرنے پر قادر نہیں ہو سکے جو طو عی طور پر انہوں نے کیا تھا اور جس کے متعلق کوئی جبر اُن پر نہیں کیا گیا تھا۔میں بتا چکا ہوں کہ تدریجی طور پر جماعت کو قربانی کے میدان میں اب آگے سے آگے بڑھنا ہو گا۔ذاتی طور پر مجھے اس بات کا قطعاً در دمحسوس نہیں ہوسکتا اگر ہماری جماعت موجودہ تعداد سے گھٹ کر آدھی رہ جائے یا چوتھا حصہ رہ جائے یا اس سے بھی زیادہ گر جائے کیونکہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ مخلصین وہ کچھ کر سکتے ہیں جو تعداد نہیں کر سکتی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ذرائع بتائے ہوئے ہیں کہ جن کے ماتحت چند آدمیوں کے ذریعہ بھی ساری دنیا میں اسلام قائم کیا جاسکتا۔لیکن ان ذرائع کو استعمال کرنے کے اوقات ہوتے ہیں۔خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا