خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 556

خطبات محمود ۵۵۶ سال ۱۹۳۶ء علیہ السلام کو دیکھو کہ ایسے شدید دشمن کے صحیح واقعات سے بھی اس کی تذلیل گوارا نہیں کرتے مگر ہمارے دوست جوش میں آکر گالیاں دینے بلکہ مارنے پیٹنے لگ جاتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ - رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے پس ہماری جماعت کو ایک طرف تو یہ اعلیٰ اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے چاہئیں اور دوسری طرف بدی سے پوری پوری نفرت پیدا کرنی چاہئے ایسی ہی نفرت جیسی حضرت رسول کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دکھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی یہ دونوں رے پائے جاتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن ایک سمویا ہوا نسان ہوتا ہے۔میں اس موقع پر غیرت کی ایک مثال بھی بیان کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تھے کہ پنڈت لیکھرام بھی وہاں آگئے اور آپ کو سلام کیا۔اُس وقت اُن کی شہرت آریہ لوگوں میں آنحضرت مہ کو گالیاں دینے کی وجہ سے خوب ہو چکی تھی اور وہ آریوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے سلام کا کوئی جواب نہ دیا تو حضور کے ساتھ جو خدام تھے انہوں نے سمجھا کہ شاید آپ نے دیکھا نہیں اس لئے عرض کیا کہ حضور پنڈت لیکھرام سلام کرتے ہیں مگر آپ خاموش رہے۔پنڈت لیکھرام نے بھی اس خیال سے کہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں دوسری طرف ہو کر پھر سلام کیا۔پھر بھی آپ نے جواب نہ دیا۔اس پر آپ کے ہمرا ہی جو شاید فخر محسوس کر رہے تھے کہ آریوں کا لیڈر آپ کو سلام کر رہا ہے پھر انہوں نے آپ کو توجہ دلائی کہ حضور پنڈت لیکھرام جی آپ کو سلام کر رہے ہیں۔اس پر آپ نے جوش سے فرمایا کہ کیا انہیں شرم نہیں آتی کہ آقا کو تو گالیاں دیتے ہیں اور غلام کو سلام کہتے ہیں۔غرض آپ کے اندر ایک طرف تو بے انتہاء غیرت تھی اور دوسری طرف بے انتہاء رحم اور عفو تھا۔غیرت تھی تو اس قدر کہ ایک مشہور لیڈر کا سلام تک لینے کو آپ تیار نہ ہوئے اور رحم تھا تو اتنا کہ ایک شدید مخالف کی ذلت بھی پسند نہیں کرتے۔پس یہ اخلاق ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم کو سکھائے اور جنہیں زندہ رکھنے کی کوشش ہماری جماعت کو کرنی چاہیئے۔یاد رکھو کہ جوشخص اپنی اولا دکو نیک اخلاق نہیں سکھاتا وہ نہ صرف یہ کہ اپنی اولا د سے دشمنی