خطبات محمود (جلد 17) — Page 555
خطبات محمود ۵۵۵ سال ۱۹۳۶ ایک طرف تو آپ کے اخلاق دکھا کر آپ کی عزت قائم کی اور دوسری طرف غیر معمولی سامان پیدا کر کے مولوی صاحب کو بھی ذلیل کرا دیا۔اور یہ اس طرح ہوا کہ وہی ڈپٹی کمشنر جو پہلے سخت مخالف تھا اس نے جو نہی آپ کی شکل دیکھی اس کے دل کی کیفیت بدل گئی اور باوجود اس کے کہ آپ ملزم کی حیثیت میں اس کے سامنے پیش ہوئے تھے اس نے کرسی منگوا کر اپنے ساتھ بچھوائی اور اس پر آپ کو بٹھا یا۔جب مولوی محمد حسین صاحب گواہی کیلئے آئے تو چونکہ وہ اس امید میں آئے تھے کہ شاید آپ کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا کم سے کم آپ کو ذلت کے ساتھ کھڑا کیا گیا ہوگا جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا ہوا ہے تو وہ غصہ سے مغلوب ہو گئے اور جھٹ مطالبہ کیا کہ مجھے بھی کر سی دی جائے۔اس پر عدالت نے کہا کہ نہیں آپ کا کوئی حق نہیں کہ آپ کو کرسی ملے۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں معزز خاندان سے ہوں اور گورنر صاحب سے ملاقات کے وقت بھی مجھے کرسی ملتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا کہ ملاقات کے وقت تو چوہڑے کو بھی کرسی ملتی ہے مگر یہ عدالت ہے مرزا صاحب کا خاندان رئیس خاندان ہے ان کا معاملہ اور ہے۔مولوی صاحب اس پر بھی باز نہ آئے اور کہا کہ نہیں مجھے ضرور کرسی ملنی چاہئے میں اہلحدیث کا ایک ایڈووکیٹ ہوں۔اس پر ڈپٹی کمشنر کو طیش آ گیا اور اس کی نے کہا کہ بک بک مت کر، پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔مولوی صاحب جب گواہی دے کر باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی اُس پر بیٹھ گئے کہ لوگ سمجھیں کہ شاید اندر بھی کرسی پر ہی بیٹھے تھے مگر نوکر ہمیشہ آقا کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں۔چپڑاسی نے جب دیکھا کہ صاحب ناراض ہیں تو اس خیال سے کہ برآمدہ میں کرسی پر بیٹھا دیکھ کر مجھے ناراض نہ ہوں آ کر کہنے لگا میاں! اٹھو! کرسی خالی کر دو۔وہاں سے اٹھ کر وہ باہر آئے اور ایک چادر بچھی ہوئی تھی اُس پر بیٹھ گئے اور خیال کیا کہ چلو اتنی عزت ہی سہی مگر چادر والے نے نیچے سے چادر کھینچتے ہوئے کہا کہ اٹھو! میری چادر چھوڑ دو جو عیسائیوں سے مل کر ایک مسلمان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے آیا ہوا سے بٹھا کر میں اپنی چادر پلید نہیں کراسکتا اور اس طرح ذلّت پر ذلت ہوتی چلی گئی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے آپ کی عزت قائم ہوئی۔اس کے بالمقابل ہماری جماعت کے کتنے دوست ہیں جو غصہ کے موقع پر اپنے نفس پر قابور رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود