خطبات محمود (جلد 17) — Page 557
خطبات محمود ۵۵۷ سال ۱۹۳۶ کرتا ہے بلکہ سلسلہ سے بھی دشمنی کرتا ہے، آنحضرت ﷺ سے دشمنی کرتا ہے اور خدا سے دشمنی کرتا ہے۔مجھے بعض لوگوں نے خطوط لکھے ہیں کہ آپ اعمال کی اصلاح کے متعلق خطبات پڑھ رہے تھے تو بعض نوجوانوں نے داڑھیاں رکھ لی تھیں مگر ادھر آپ نے خطبات ختم کئے اُدھر اُن کی داڑھیاں غائب ہو گئیں۔اب بتاؤ یہ کونسا وعظ ہے جو میں ہر وقت ہی کرتا رہوں اور جس وقت اسے بس کروں اُسی وقت عمل بھی بس ہو جائے۔بھلا یہ طاقت کس میں ہے کہ روز ہی داڑھی پر لیکچر دیتا رہے۔مؤمن کیلئے تو اشارہ کافی ہوتا ہے وہ جب صداقت کی بات سن لیتا ہے تو اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور دوبارہ نہیں کہلواتا۔اگر میں اس طرح لیکچر دیتا رہوں کہ سلسلہ بند ہی نہ ہو تو ہزاروں نیکیاں ہیں ان پر وعظ کیلئے اتنے دن کہاں سے لاؤں۔حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک مریض آیا اور اس نے ایک سوال کیا۔یہاں بچے بیٹھے ہیں اس لئے میں وہ سوال تو بیان نہیں کرتا مگر اس نے کہا کہ کوئی ایسی دوائی مل جائے کہ میں فلاں کام ۵۰،۴۸ گھنٹے تک کر سکوں۔آپ نے فرمایا احمق خدا نے تو ۲۴ گھنٹے بنائے ہیں میں تیرے لئے پچاس گھنٹے کہاں سے لاؤں۔تو خدا نے ہفتہ کے سات دن مقرر کئے ہیں جن میں سے ایک دن جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاسکتا ہے۔ادھر ہزاروں نیکیاں ہیں میں ان سب پر روز خطبہ کیسے پڑھ سکتا ہوں۔جو لوگ وعظ سن کر عمل کرتے ہیں اور پھر فوراً ہی چھوڑ دیتے ہیں ان کی مثال تو اس کھیل کی سی ہے جسے ” جیک ان دی بکس“ کہتے ہیں۔ایک بکس کے اندر لچکدار گڑا ہوتا ہے جب ڈھکنا بند کیا جائے تو وہ بھی اندر چلا جاتا ہے مگر جب ڈھکنا کھولا جائے تو وہ پھر نمودار ہو جاتا ہے اسی طرح میں وعظ کرتا ہوں تو ان لوگوں کی داڑھی نکل آتی ہے اور بس کرتا ہوں تو پھر اندر چلی جاتی ہے پس اس داڑھی کا کوئی علاج میرے پاس نہیں ہے۔خدا نے کسی کو اتنا وقت نہیں دیا کہ ایسا وعظ کر سکے اصل چیز یہی ہے کہ انسان مؤمن بنے پھر یہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کشمکش اسی وقت تک کیلئے ہے جب تک ایمان نہ ہو۔مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جو صاحب الهام بزرگ تھے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور اپنی اولاد کی اس سے محرومی کی خبر بھی الہام کے ذریعہ دی تھی ایک دفعہ لوگ ایک بڑے حنفی مولوی کو جو خود بھی نیک تھا آپ سے بحث کرنے کیلئے لائے اور کہا کہ حنفی مولوی