خطبات محمود (جلد 17) — Page 533
خطبات محمود ۵۳۳ سال ۱۹۳۶ جگہ کے دوست آرام میں ہوں جیسا کہ قادیان کی حالت ہے وہ ناصح مشفق بن کر مجھے نصائح شروع کر دیتے ہیں کہ گورنمنٹ سے جنگ پر اتر نا ٹھیک نہیں اور لوگوں کو اپنی مخالفت پر آمادہ نہیں کرنا چاہئے۔وہ تو دل میں خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ میری خیر خواہی کر رہے ہیں لیکن میں اُن کو اپنے دل میں بُزدل یقین کر رہا ہوتا ہوں کیونکہ جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہہ چکے تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا کام کریں اور وہ خراب ہو جائے۔ہمارے تباہ ہو جانے سے دنیا کو ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔کیا ابو بکر ، عثمان اور عمر کی شہادت سے اسلام کو کوئی نقصان ہوا ؟ ہرگز نہیں حالانکہ یہ خلفاء مقتدر صحابہ میں سے تھے۔پس ہم کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے جھکیں اور اُن سے غیر ضروری نرمی اختیار کریں۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے خود بخود ہو جائے گا ہمارا تو صرف اتنا فرض ہے کہ قربانی سے دریغ نہ کریں آگے خدا تعالیٰ کی مرضی ہوگی تو ہم سے کام لے لے گا اور مرضی ہو گی تو ہم سے کام نہ لے گا۔عبودیت تامہ کے ساتھ جبکہ استعانت لازمی طور پر گی ہوئی ہے تو ہم کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ بُزدل شخص کے دل میں عبودیت تامہ اور خوف اور لالچ ایک جا جمع ہوسکیں۔ہاں خدا تعالیٰ سے خوف کرنا اور اس کی کسی چیز کی خواہش رکھنا بُزدلی اور لالچ نہیں کہلائے گا۔اللہ تعالیٰ سے تو یہ امید ہوتی ہے اور لالچ تو بندوں سے ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنا بھی عبادت ہے نہ کہ بُزدلی۔جس طرح سنکھیا سے ڈرنائز دلی نہیں کیونکہ جس چیز کا نتیجہ یقینی ہو اُس سے ڈرنا بُزدلی نہیں کہلاتا۔بُزدلی تو اُس چیز سے ڈرنے کو کہتے ہیں جس کا نتیجہ یقینی نہ ہو۔پس انسان کیونکہ ہم کو یقینی طور پر کوئی نقصان نہیں دے سکتے اس لئے اس سے خوف کرنا بُز دلی کہلائے گا۔ہاں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کیونکہ یقینی انسان کو تباہ کر دینے والی ہے اس لئے اس سے بچنے والا محتاط کہلائے گا نہ کہ بُزدل۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی امید رکھنا لالچ نہیں کیونکہ لالچ تو اُس چیز کے متعلق کیا جاتا ہے جس کا ملنا شکی ہو۔لیکن جس چیز کے متعلق ملنے کا یقین ہو اس کے بارہ میں لالچ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔مثلاً کسی شخص کو تنخواہ کا ملنا یقینی امر ہے تو یہ لالچ نہیں کہلا سکتا۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے جو چیزیں ہم کو ملتی ہیں کیونکہ وہ یقینی ہوتی ہیں اس لئے ان کی امید لالچ نہیں ہے اور جو شخص اس مقام سے اِدھر اُدھر جاتا ہے وہ اپنے اند ر عبودیت نہیں رکھتا یا پھر وہ غلطی خوردہ ہے اور اگر چہ ہم اس کو مؤمن کہہ لیں گے لیکن اسے کامل مؤمن نہیں