خطبات محمود (جلد 17) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۳۶ گزار رہا ہو۔پس کیوں ہر ایک انسان یہ کوشش نہ کرے کہ وہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کے مرحلے کو طے کرتا ہوا إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی منزل پر جا کر ٹھہرے۔مجھے ان دوستوں پر تعجب آتا ہے جو دشمنوں کی مخالفت کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔مگر غور کرنا چاہئے کہ اگر دین پر کوئی خطرہ نہ آئے جس میں ہم کو دین کی نصرت کا موقع مل سکے تو ہمارے اخلاص کا اظہار کس طرح ہو۔اسی طرح اگر ہم پر تکالیف اور مصائب نہ آئیں تو لوگوں کو کس طرح علم ہو کہ خدا تعالیٰ ہماری اعانت فرماتا ہے اور ان تکالیف کو دور کرنا اُس کے سامنے کچھ بھی نہیں اور اس طرح گویا خدا تعالیٰ بھی اپنا امتحان دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ میرے اندر کس قدر طاقت اور قوت کی ہے اور وہ اپنی قدرت کا اس طرح پر اظہار کرتا ہے کہ پہلے پہل لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے کو بظاہر حالات میں ذلیل کر لیں اور اس کو طرح طرح کی تکالیف کا نشانہ بنالیں۔اُس کی جان اور مال اور آبرو پر حملے کر لیں۔اس کے بعد یکدم خدا تعالیٰ نمودار ہوتا ہے اور دنیا کو کہتا ہے ہے کہ کون ہے جو میرے اس بندے کو ہاتھ لگا سکے اور پھر اس کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے اُس کو عزت کے مقام پر پہنچا دیتا ہے اور اس طرح دنیا کو بتلا دیتا ہے کہ میں کس قدر قادر ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سلطان عبدالحمید شاہ ٹرکی کی ایک بات بہت ہی پسند آتی ہے اور وہ یہ کہ جب یونان سے جنگ ہونے کو تھی تو اس کے جرنیلوں نے جلسہ کیا اور خوب رڈ و قدح کے بعد کہنے لگے کہ ہمارے پاس جنگ کا فلاں فلاں سامان تو کافی موجود ہے لیکن فلاں سامان موجود نہیں ہے اس لئے ہم کو جنگ سے احتراز کرنا چاہئے۔اس موقع پر سلطان عبدالحمید نے اپنے جرنیلوں سے کہا کہ تم نے اپنی طرف سے سارے خانے پر کر لئے اب کوئی خانہ خدا تعالیٰ کیلئے بھی تو رہنے دو اور حملہ کر دو۔چنانچہ حملہ کیا گیا اور فتح حاصل ہوئی۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبد الحمید کی یہ بات کہ خدا تعالیٰ کیلئے بھی کوئی خانہ رہنے دو مجھے بہت ہی پسند ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب ہماری جماعت میں سے کسی دوست پر انفرادی طور پر یا جماعت پر بحیثیت مجموعی مصائب آتے ہیں تو دوست گھبرا اُٹھتے ہیں اور دوست اخلاص کی وجہ سے مجھے آن آن کر مشورے دینے لگتے ہیں کہ فلاں بات یوں کریں، فلاں یوں کریں۔خصوصاً جس