خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 534

خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۶ کہہ سکتے۔اور اپنے کامل مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ ہر گز ضائع نہیں کرتا بلکہ حدیث شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ لَا يَشْقَى جَلِیسُهُمُ سے یعنی ان لوگوں کے پاس بیٹھنے والا بھی ضائع نہیں ہوسکتا۔حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ ایک خاص سلوک ہے کہ مجھے رات کا فاقہ کبھی نہیں ہوتا۔ایک دوست سناتے تھے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور رات کے وقت بٹالہ پہنچے اور آپ کے پاس کھانے کیلئے اُس وقت کچھ نہ تھا۔آپ قادیان سے محبت کی وجہ سے رات کو ہی قادیان کی طرف چل دیئے۔وہ دوست کہتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ تھا اور میں نے دل میں کہا کہ آج میں حضرت کی اس بات کا امتحان اچھی طرح سے لے سکتا ہوں کہ آیا آپ پر کسی رات کو فاقہ آتا ہے یا نہیں۔کیونکہ آج آپ نے اب تک کچھ نہیں کھایا اور اب چاربج چکے ہیں۔گھر جا کر بھی ان کو کھانا ملنے کی امید نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب ہم وڈالہ کے قریب پہنچے تو ایک شخص ہماری طرف دوڑتا ہوا آیا اُس کے ہاتھوں میں برتن تھے اور اُس کے پیچھے کچھ ساتھی تھے اُن کو آواز دیتا چلا آرہا تھا۔جب وہ ہم تک پہنچ گیا تو اس نے ہمارے سامنے کھانا رکھ دیا اور چار پائی بچھوا دی۔جب ہم کھانا کھا چکے تو حضرت خلیفہ اول نے اُس دوست سے پوچھا کہ آپ کو کس طرح پتہ تھا کہ آج ہم نے یہاں سے گزرنا ہے؟ کہنے لگا کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ دہلی گئے ہوئے ہیں اور دہلی سے واپسی کا دن آج ہے اور میں صبح سے کھانا لئے بیٹھا ہوں کہ آپ اب تشریف لے آئے ہیں۔نیز میری والدہ سخت بیمارتھی میں نے سوچا کہ میں حضور کو وہ مریضہ بھی دکھا دوں گا۔چنانچہ حضور نے مریضہ کو دیکھ لیا اور قادیان تشریف لے گئے اور آپ کی یہ بات کہ مجھے رات کا فاقہ کبھی نہیں ہوتا پوری ہو گئی۔تو مؤمن جب اللہ تعالیٰ کا ہورہتا ہے تو ایساک نَسْتَعِينُ کے ماتحت خود بخود آ جاتا ہے اور ہر مؤمن سے اللہ تعالیٰ کے مختلف سلوک ہوتے ہیں ایک ہی رنگ کا سلوک ہر ایک سے نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں امرتسر سے یکے پر سوار ہو کر روانہ ہوا۔ایک بہت موٹا تازہ ہندو بھی میرے ساتھ ہی یکے پر سوار ہوا وہ مجھ سے پہلے یکے کے اندر بیٹھ گیا اور اپنے آرام کی خاطر اپنی ٹانگوں کو اچھی طرح پھیلا لیا حتی کہ اگلی سیٹ جہاں میں نے بیٹھنا تھاوہ بھی بند کر دی۔چنانچہ میں تھوڑی سی جگہ میں ہی بیٹھ رہا۔اُن دنوں دھوپ بہت سخت پڑتی