خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 481

خطبات محمود ۴۸۱ سال ۱۹۳۶ داد، فریاد، بے انصافی ، بادشاہ نے دریافت کیا تو کہنے لگے کہ دشمن کا لشکر بہت بے انصافی کرتا ہے۔ہم تو چار چارمل کر ایک آدمی کو پکڑتے اور سر اور پاؤں کو پکڑ کر باقاعدہ بسم اللہ کہہ کے چھری پھیرتے ہیں لیکن دشمن بے تحاشہ تلواریں مار مار کر ہمارے بیسیوں آدمی ہلاک کر دیتا ہے اس لئے اس کا ازالہ کیا جائے۔اسی طرح ہمارے بعض نادان بھی یہی شور کرتے ہیں کہ ہم سچ بولتے ہیں اور آئینی طریق اختیار کرتے ہیں مگر ہمارے دشمن غیر آئینی کا رروائیاں کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں ان کی بات ایسی ہی ہے جیسے قصائیوں نے کی تھی کیا ہمارا دشمن بھی سچائی کا پابند ہے؟ کیا وہ بھی میری ہدایتوں پر چلنے کیلئے تیار ہے؟ کیا اس کے اخلاق کا بھی وہی معیار ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے؟ کیا اس نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہوئی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی یہ بھی ایک دلیل ہے کہ تم سچ بولتے ہو اور تمہارا دشمن جھوٹ تم آئین کے مطابق چلتے ہو اور وہ غیر آئینی ذرائع اختیار کرتا ہے، تم رحم کرتے ہو اور وہ بختی، اگر تم میں اور اس میں یہ فرق نہ ہوتا تو تم کو احمدیت میں داخل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی۔دوسری طرف رحم کا معاملہ ہے۔بہت تم میں ہیں جو چاہتے ہیں کہ اگر دشمن قا بو آئے تو اس سے پوری طرح بدلہ لیا جائے لیکن یاد رکھو یہ طریق مسلمان کا نہیں ہوتا۔مؤمن سے جب معافی طلب کی جاتی ہے تو وہ معاف کر دیتا ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی ممانعت آ چکی ہو۔بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی خاص مصلحتوں کے ماتحت رحم سے روک دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ہر چیز پر حاوی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ A منافق جنگ میں نہ جانے کی اجازت لینے آئے اور تو نے اجازت دے دی۔اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو دور کرے جو اس رحم سے پیدا ہوگی تو نے کیوں کی اجازت دی؟ محمد رسول اللہ اللہ سے خدا کا علم زیادہ تھا اس لئے یہ فرمایا۔پس ایسے مواقع کے علاوہ جہاں خدا کا حکم ہم کو رو کے شدید سے شدید دشمن بھی اگر ہتھیار ڈال دے تو ہمارا غصہ دور ہو جانا چاہئے۔ہاں مؤمن بیوقوف نہیں ہوتا اور وہ کسی کے دھوکا میں نہیں آتا۔رسول کریم ﷺ تو یہاں تک احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے میدانِ جنگ میں جب ایک مسلمان اسے مارنے لگا تھا کہہ دیا کہ میں صابی ہوتا ہوں۔کفار مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے جس طرح آج کی صلى الله