خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 482

خطبات محمود ۴۸۲ سال ۱۹۳۶ ہمیں مرزائی کہتے ہیں حالانکہ یہ سخت بداخلاقی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضگی اپنے اوپر لے لی مگر پھر بھی ہم انہیں مسلمان ہی کہتے ہیں۔عیسائیوں کو عیسائی اور یہودیوں کو یہودی کہتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ تم کہاں کے ہدایت یافتہ ہو۔مگر جو لوگ دین سے بے بہرہ ہوں ان کے اخلاق گر جاتے ہیں اور وہ دوسرے کا نام بھی ٹھیک طرح نہیں لینا چاہتے۔تو اس وقت کے کفار مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے اور ایک شخص نے لڑائی کے دوران میں کہا کہ میں صابی ہوتا ہوں مگر چونکہ یہ نام غلط تھا اور لڑائی ہو رہی تھی مسلمان نے اسے مار ڈالا۔رسول کریم ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ نے فرمایا۔تم نے ظلم کیا۔اسے مارنے کا تمہیں کیا حق تھا۔اُس صحابی نے عرض کیا کہ اس نے صابی کا لفظ بولا تھا۔آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ صابی ہی کہتے ہیں۔اسی طرح ایک اور شخص نے لڑائی میں کلمہ پڑھا اور ایک صحابی نے اُسے مار دیا۔اس پر بھی رسول کریم سے سخت ناراض ہوئے۔تو ایک طرف رحم اور دوسری طرف بہادری جب تک انتہاء کو نہ پہنچی ہوئی ہو کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا۔رسول کریم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو وہ دشمن مجرموں کی حیثیت سے آپ کے سامنے پیش کئے گئے۔وہ لوگ جن کے مظالم کی وجہ سے آپ کو راتوں رات مکہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا آپ کے سامنے پیش ہوئے۔جو ان کے ظلم سے اپنے عزیز وطن کو اپنے پیارے خدا کے گھر کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔اور ان لوگوں کی موجودگی میں پیش ہوئے جن میں سے بعض کی بیویوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہوں نے ہلاک کر ڈالا تھا، جن کے باپوں اور بھائیوں اور دوستوں کو ایک اونٹ کے ساتھ ایک ٹانگ اور دوسرے سے دوسری ٹانگ باندھ کر اور انہیں مختلف جہتوں میں چلا کر چیر پھاڑ کر ہلاک کر دیا تھا ، ان غلاموں کے سامنے جنہیں جیٹھ اور ہاڑ کی گرمیوں میں گرم پتھروں پر لٹا لٹا کر جلایا جاتا تھا اور پھر کوڑے لگائے جاتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ اپنے دین سے تو بہ کرو پھر چھوڑیں گے ، مکہ کے وہ ظالم سردار جنہوں نے تیرہ سال تک صحابہ کے وطن کو ان کیلئے جہنم بنا رکھا مجرموں کی حیثیت سے حاضر تھے صحابہ کہتے ہیں کہ تلوار میں میانوں سے اُچھل اچھل پڑتی تھیں کہ ان ظالموں سے اپنے بزرگوں کے خون کا بدلہ آج لیں گے۔مہاجر تو مہاجر انصار کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا حتی کہ ایک انصاری سردار کے منہ سے بے اختیار نکل