خطبات محمود (جلد 17) — Page 480
خطبات محمود ۴۸۰ سال ۱۹۳۶ یہ سب تکالیف اسے برداشت کرنی پڑیں گی پھر شکایت کیسی ! اگر تو ہم کسی سے کہتے کہ آؤ احمدی ہو جاؤ ہم تمہیں بڑے بڑے عہدے دلائیں گے، دولت دیں گے، بیماریوں اور تکلیفوں سے بچائیں گے، عمدہ عمدہ عورتوں سے شادیاں کردیں گے، تمہارے بچوں کی تعلیم کا انتظام کر دیں گے تو شکایت ہوسکتی تھی مگر ہم تو شروع دن سے یہی کہتے کہ خدا نے ہمیں اس لئے بچن لیا ہے کہ دین کیلئے ہمیں قربانی کی بھیڑریں بنائے۔اگر ابتلاؤں کی تلواروں سے گردن کٹوانی ہے ، اگر اپنے اور اپنے عزیزوں کے خون سے ہولی کھیلنی ہے تو آؤ۔تو پھر کوئی شکایت کا موقع نہیں۔یہ بُز دل کا کام نہیں اور ڈرپوک ہمارے ساتھ نہیں چل سکتا۔ہمیں خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ تا محمد ﷺ کی بادشاہت کو پھر قائم کریں اور ظاہر ہے کہ شیطان کے چیلے جنہیں اس سے پہلے انسانوں پر بادشاہت حاصل ہے وہ سیدھے ہاتھوں اپنی بادشاہتیں ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔وہ ہر تد بیر اختیار کریں گے جس سے ہمیں کچلا جا سکے اور ہر سامان مہیا کریں گے جس سے ہماری طاقت کو تو ڑا جا سکے۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ جاؤ اور اُس وقت تک دم نہ لو جب تک محمد رسول اللہ ﷺ کا وہ جھنڈا دنیا کے تمام مذاہب کے قلعوں پر نہ گاڑ دو جو صدیوں سے گر ا ہوا ہے، جس کی عزت کو دشمنوں نے خاک میں ملانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔اس مقصد کو ہم نے کبھی نہیں چھپایا گو یہ ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اس مقصد کوامن کے ذریعہ اور دلوں کو فتح کر کے حاصل کریں گے۔مگر یہ تو ہم نے کہا ہے کہ ہم ہر حال میں سچائی کو اختیار کریں گے۔کیا ہمارے دشمنوں نے بھی یہ اقرار کیا ہوا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ شکوہ کیسا کہ حکومت کے بعض افسر کیوں آئین کو توڑتے ہیں؟ کیا انہوں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہوئی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا اس نے خیال کیا کہ فوج پر اتنا روپیہ صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔قصائی جو روز چھری چلاتے ہیں ان سے ہی فوج کا کام لیا جا سکتا ہے۔چنانچہ سب فوج موقوف کر دی گئی۔ارد گرد کے بادشاہوں کو جب یہ اطلاع ملی تو ایک بادشاہ نے جو اپنی حکومت کو وسیع کرنا چاہتا تھا اور ہمت والا تھ حملہ کر دیا۔بادشاہ نے قصائیوں کو جمع کر کے حکم دیا کہ جا کر مقابلہ کرو۔وہ گئے اور تھوڑی دیر کے بعد شور مچاتے ہوئے آگئے کہ ظلم