خطبات محمود (جلد 17) — Page 479
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کیلئے ہر چیز قربان کر دی تھی یعنی حضرت خدیجہ ان کی وفات انہی مظالم کے باعث ہوئی۔ہر شخص خیال کر سکتا ہے کہ جن بی بی کے بیسیوں غلام تھے اور جو لاکھوں روپے کی مالک اور جو مکہ کے مالدار اشخاص میں سے تھیں، جو بیسیوں گھرانوں کو کھانا کھلا کر خود کھاتی تھیں۔بڑھاپے میں ان کو کئی کئی فاقے کرنے پڑتے اور اگر کچھ کھانے کو ملا بھی تو درختوں کے پتے وغیرہ۔اُس وقت ان کی صحت پر کیا اثر پڑا ہوگا۔چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے وہ فوت ہو گئیں۔آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب بھی انہی تکالیف کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ان حالات میں تو ایک عام انسان تو در کنار بہادر سے بہادر اور جری سے جری انسان کے ساتھ بھی اگر ایسی حالت ہوتی تو اس کے دل کا غصہ انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے۔اگر ایسی ہی وفادار بیوی انہی حالات میں کسی اور شخص کی ضائع ہوتی تو وہ ان کی وفاداریوں اور قربانیوں کو یاد کر کے اور ان بچوں پر نگاہ ڈال کر جنہیں بے نگران چھوڑ کر وہ دنیا سے رخصت ہوتی بہادر سے بہادر انسان بھی قسم کھا تا کہ اس صدمہ کے عوض قریش کی ہر عورت کو بھی قتل کرنا پڑا تو میں اس سے دریغ نہ کروں گا۔رسول کریم ﷺ نے کیا کیا؟ ایک صحابی کا بیان ہے کہ ایک جنگ میں جب رسول کریم ﷺ نے قریش کی ایک عورت کی لاش دیکھی تو آپ اس قدر غصہ میں آئے کہ میں نے آپ کو اس قدر غصہ میں کبھی نہ دیکھا تھا اور آپ نے سخت غصہ کی حالت میں دریافت کیا کہ اسے کس نے قتل کیا ہے؟ اور پھر فرمایا کہ عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ، ضعیفوں، بیماروں اور مذہبی لیڈروں پر کبھی ہاتھ مت اٹھاؤں۔کجا وہ سلوک اور کجا یہ۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بہادری کا مفہوم یہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے بتایا۔مگر میں اپنی جماعت سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا ان میں بھی وہی جرأت اور وہی رحم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے دکھایا؟ ہمارے دوستوں کی حالت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو دوست گھبرا جاتے ہیں کہ اب ہم قید ہو جائیں گے، پکڑے جائیں گے۔کیا انہیں پتہ نہیں کہ جب انہوں نے احمدیت کو قبول کیا تھا تو اس وقت یہ سب چیزیں ان کے سامنے رکھ دی گئی تھیں۔کیا انہیں کسی نے دھوکا سے احمدیت میں داخل کر لیا تھا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ جو لوگ تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتے ان کا راستہ مجھ سے الگ ہے۔میرا راستہ پھولوں کی سیج پر نہیں بلکہ کانٹوں پر ہے ہے کسی سے کوئی دھوکا نہیں کیا گیا۔ہر شخص جو احمد بیت میں داخل ہوتا ہے یہ سمجھ کر ہوتا ہے کہ