خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 444

خطبات محمود ۴۴۴ سال ۱۹۳۶ کرنے کیلئے تیار ہو گئے اور قوت ارادی نے ان کے اعمال کی کمزوری کو اس طرح پرے پھینک دی جیسے ایک تنکا تند سیلاب کے آگے بہہ جاتا ہے۔شراب کا نشہ کتنا خطر ناک ہوتا ہے جب کوئی شرابی شراب کے نشہ میں مدہوش ہو تو اُسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، کئی اپنے ماں باپ کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں، کئی اپنے عزیزوں سے لڑائی اور فساد شروع کر دیتے ہیں، کئی یونہی بکواس کرتے چلے جاتے ہیں، کئی ننگے ہو جاتے ہیں، کئی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ عقل قائم ہونے کے وقت اگر انہیں کوئی سنائے تو وہ کبھی یہ ماننے کیلئے تیار نہ ہوں کہ ان کے منہ سے اس قسم کی باتیں نکلی ہیں۔ایک دفعہ میں ایک مضمون لکھ رہا تھا اور اپنے مکان کے اس حصہ میں تھا جو اس گلی پر واقع ہے جو ہمارے گھروں سے مسجد اقصیٰ کو آتی ہے اور جو مکان اس وقت میاں بشیر احمد صاحب کے پاس ہے اس کے اوپر اُس وقت ایک صحن تھا اُس صحن میں ٹہل ٹہل کر میں مضمون لکھ رہا تھا۔ٹہلتے ٹہلتے نیچے گلی میں سے مجھے کچھ آواز آئی مجھے معلوم ہوا کہ دو سکھ گلی میں سے گزر رہے ہیں۔پہلے ان کے لہجہ اور پھر اُن کے ناموں کو سن کر مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ سکھ تھے اب ان کے نام تو مجھے صحیح یاد نہیں لیکن ایسے ہی نام تھے جیسے سو جان سنگھ یا سورن سنگھ۔بہر حال فرض کرو ایک کا نام سورن سنگھ تھا اور دوسرے کا نام سو جان سنگھ۔میں نے سنا کہ ان میں سے ایک کہہ رہا ہے اوسو جان سنگھا! توں پکوڑے کھانے ہیں؟ میں نے سمجھا کوئی دوست اپنے دوست سے پوچھ رہا ہے کہ کیا تم پکوڑے کھاؤ گے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر سنا کہ کوئی کہہ رہا ہے اوسو جان سنگھا ! توں پکوڑے کھانے ہیں؟ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ پھر مجھے آواز آئی اوسو جان سنگھا ! توں پکوڑے کی کھانے ہیں؟ تب میں نے جھانکا کہ یہ کیا بات ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہے وہ گلی میں سے گزر رہا ہے اور دوسرا شخص گلی کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہے اور کہتا جارہا ہے۔اوسو جان سنگھا! توں پکوڑے کھانے ہیں؟ اوسو جان سنگھا! توں پکوڑے کھانے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ وہ جو گھوڑے پر سوار تھا وہ تو اُس وقت گلی کے نکڑ پر تھا اور دور جا چکا تھا مگر دوسرا شخص دیر تک وہاں بیٹھا یہی کہتا رہا او سو جان سنگھا! توں پکوڑے کھانے ہیں؟ اوسو جان سنگھا! توں پکوڑے کھانے ہیں ؟ تب میں سمجھا کہ یہ شرابی ہے عقل و ہوش سے کام لے کر یہ الفاظ منہ سے نہیں