خطبات محمود (جلد 17) — Page 445
خطبات محمود نکال رہا۔۴۴۵ سال ۱۹۳۶ یہ تو خیر ایک زمیندار شرابی کا واقعہ ہے ایک دفعہ مجھے ریل گاڑی میں بھی ایسا ہی تجربہ ہوا۔میں امرتسر سے دہلی جانے کیلئے سوار ہوا سیکنڈ کلاس کا میں نے ٹکٹ لیا مگر چونکہ دیوالی کا دن تھا اس لئے سخت بھیڑ تھی یہاں تک کہ سیکنڈ کلاس میں بھی چالیس کے قریب آدمی اکٹھے ہو گئے ، اکثر کھڑے تھے اور کچھ اوپر کی سیٹوں پر بیٹھے تھے۔میں سیکنڈ کلاس کے جس کمرہ میں داخل ہوا اُس میں ایک دو جگہیں ابھی خالی تھیں لیکن جو نہی میں داخل ہوا ایک شخص نہایت تپاک سے مجھے ملا اور اُس نے دوسرے سے کہا آپ ایک طرف ہو جا ئیں اور انہیں بیٹھنے دیں۔وہ ایک طرف کھسک گیا اور میں بیٹھ گیا اُس نے مجھ سے کچھ باتیں ایسی کیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مجھے جانتا ہے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد ایک اور شخص آیا تو وہی شخص اس کی طرف متوجہ ہو گیا اور ایک شخص سے کہنے لگا دیکھتے نہیں ایک بھلا مانس آیا ہے تم اسے جگہ کیوں نہیں دیتے ایک طرف ہو جاؤ اور اسے بیٹھنے دو۔یہ جو میں نے کہا ہے کہ اس کی باتوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ میرا واقف ہے یہ میں نے اس کی لئے کہا ہے کہ اُس نے مجھے بتایا اُس کا باپ پونچھ میں وزیر تھا اور حضرت خلیفہ اول سے بھی اُس نے اپنی واقفیت کا اظہار کیا جس سے مجھے معلوم ہوا کہ اسے میرے نام وغیرہ سے واقفیت تھی لیکن ابھی اُس نے دوسرے آدمی کو بٹھایا ہی تھا کہ ایک تیسرا شخص آپہنچا۔یہ پھر ادھر متوجہ ہوا اور اس شخص سے جس کو اس نے نہایت تعظیم سے بٹھایا تھا سختی سے کہنے لگا دیکھتے نہیں ایک بھلا مانس کھڑا ہے اور تم اسے جگہ نہیں دیتے فوراً اس کیلئے جگہ بناؤ۔تب میں سمجھا کہ یہاں خیریت نہیں کیونکہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے جانتا ہو لیکن یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ جو بھی داخل ہوتا ہے اس کا یہ واقف ہو اور اس کے بیٹھنے کیلئے جگہ بنانا ضروری خیال کرتا ہو۔اور جب جگہ نہ بنتی تو وہ بختی سے انہی کو ڈانٹنا شروع کی کر دیتا جن کو پہلے عزت سے بٹھا چکا ہوتا اور سوائے میرے کہ اُس نے مجھے اٹھنے کو نہ کہا جب بھی کی کوئی آتا فوراً دوسرے سے کہنا شروع کر دیتا دیکھتے نہیں ایک بھلا مانس آیا ہے اور تم اس کیلئے جگہ نہیں بناتے۔تھوڑی دیر گزری تو پھر ایک اور شخص اندر داخل ہوا وہ اسے دیکھتے ہی اس طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا میں آپ کی کیا خاطر کروں؟ دو چار سیکنڈ کے بعد پھر کہنے لگا میں آپ کی کیا خاطر کروں؟ اس نے کہا آپ کی مہربانی۔مگر یہ جواب سننے کے بعد وہ پھر کہنے لگا میں آپ کی کیا خاطر