خطبات محمود (جلد 17) — Page 429
خطبات محمود ۴۲۹ سال ۱۹۳۶ خواہ خطرہ اتنا بڑھ جائے کہ دشمن مدینہ میں آجائے اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں پڑی ہوں جنہیں کتے گھسیٹتے پھریں ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب ان سے گفتگو کر کے باہر نکلے تو آپ کے دوستوں نے جو انتظار میں کھڑے تھے اور اسی فکر میں تھے پوچھا کچھ کامیابی ہوئی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس بڑھے کو بہت کمزور دل کا سمجھتا تھا مگر یہ تو ہم سب سے زیادہ بہادر ہے اور آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسلام کو دوبارہ عرب میں قائم کیا اور تربیت کے ماتحت وہی عرب سچے مسلمان بن گئے۔غرض نقل ایک زبر دست طاقت ہے جو کبھی نیکی کے پھیلنے میں محمد ہوتی ہے اور کبھی بدی کے پھیلنے میں۔چنانچہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی نقل جس نے ایک دفعہ اسلام کی اشاعت میں مدد کی تھی دوسرے وقت میں اس کے شعار کو مٹانے میں مدد کی اور وہ لوگ جو داڑھیاں رکھتے تھے ان سے داڑھیاں منڈوانے لگی کبھی اس نے خدا اور رسول پر ایمان کے اظہار میں مدد دی اور کبھی انکار میں۔پس نقل اپنی ذات میں نہ اچھی ہے اور نہ بُری اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ سے نقل کرنے والا اگر اچھی چیز کی نقل کرتا ہے تو وہ اچھا ہو جا تا ہے اور اگر بُری چیز کی نقل کرتا ہے تو بُرا ہو جاتا ہے۔نقل ایک شیشے کے کٹورے کی مانند ہے اس میں اگر دودھ ڈالا جائے تو دودھ نظر آتا ہے اور اگر پانی ڈالا جائے تو پانی۔اس میں کالا رنگ ڈالا جائے تو وہ کالا نظر آتا ہے اور اگر سُرخ رنگ ڈالا جائے تو سُرخ ، غرض وہ ہر رنگ کے قبول کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔در حقیقت اس زبر دست طاقت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری کیلئے پیدا کیا ہے تا کامیابی کے راستہ پر اس کا سفر اس کیلئے آسان ہو جائے گوگندے لوگ اُسے بُری طرح استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جیسے اور پاکیزہ اشیاء کو لوگ بُری طرح استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔اس طاقت کی پیدائش کی اصل غرض یہ ہے کہ صداقت ایک وقت تک جد و جہد کرنے کے بعد جب اپنا سکہ جمالے تو پھر اس کی اشاعت میں سہولت پیدا ہو جائے۔چنانچہ جب کوئی قوم ایسے مقام پر کھڑی ہو جاتی ہے کہ لوگ اُس کی نقل کریں تو وہ کامیاب ہو جاتی ہے ورنہ ایک ایک اور دو دو کو منوا نا بڑ المبا کام ہے۔اس طرح منوانے کیلئے ایک بڑا لمبا عرصہ کامیابی کیلئے درکار ہوتا ہے اور دنیا