خطبات محمود (جلد 17) — Page 428
خطبات محمود ۴۲۸ سال ۱۹۳۶ سکتا ہے۔وہاں کوئی رئیس بیمار ہوا تو یہ طبیب صاحب بھی پہنچے اور چار پائی کے نیچے نظر ڈالنے کے بعد کہا کہ آپ نازک مزاج آدمی ہیں آپ نے گھوڑے کی زمین کھالی بھلا وہ آپ کیونکر ہضم کر سکتے ہی تھے۔وہ رئیس غصہ سے بھر کر کہنے لگا کہ گستاخی کرتے ہو تمہیں علاج کیلئے بلایا ہے یا ایسی باتوں کیلئے ؟ اور نوکروں سے کہا اسے خوب پیٹو جب خوب پٹ چکا تو کہنے لگا کہ اس طبیب نے جس سے میں نے طب سیکھی ایسی ہی بات کی تھی وہ مریض کو دیکھنے گیا تو میں بھی اُس کے ساتھ تھا اور تاڑتا رہا کہ کیا کرتا ہے۔اس نے چار پائی کے نیچے دیکھا دو تین چنے کے دانے پڑے تھے اس نے مریض سے کہا کہ تم نے چنے کھائے ہیں۔میں نے سمجھا کہ جو چیز چار پائی کے نیچے پڑی ہو وہی مریض نے کی کھائی ہوتی ہے۔تو نقال ایسے ہی ہوتے ہیں کسی کو ترقی یافتہ دیکھا تو اس کے کاموں کی نقل شروع کی کر دی مگر اس وجہ سے کہ کبھی اس سے مضحکہ انگیز صورت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ایک معمولی طاقت ہے یا بُری چیز ہے اس میں زبر دست طاقت ہے اور جس طرح اس سے بُری کی باتیں پیدا ہوتی ہیں کبھی یہ اچھی تبدیلیاں بھی پیدا کر دیتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح مکہ تک عرب کے لوگ سمجھ سمجھ کر اسلام قبول کر رہے تھے لیکن فتح مکہ کے بعد ان میں سے بہتوں نے محض نقل کے طور پر اسلام قبول کرنا شروع کر دیا گویا اسلام قبول کرنا اُس وقت فیشن ہو گیا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دریا ہے جو انڈا چلا آ رہا ہے۔دس دس اور بیس بیس ہزار افراد پر مشتمل قبائل ایک وقت میں اسلام قبول کرتے تھے اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس بارہ میں وہ ایک دوسر۔سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور کہتے تھے جلدی کرو ایسا نہ ہو کہ ہمارا مخالف قبیلہ پہلے داخل ہو جائے۔تو وہ اسلام نقل کا تھا آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد زکوۃ کا فتنہ جب اُٹھا تو وہی نقال جنہوں نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی تھی انہوں نے کفر کی طرف لوٹ جانے میں بھی جلدی کی۔ایسے سب قبائل نے ارتداد اختیار کر لیا حتی کہ سارے عرب میں صرف تین جگہ نماز با جماعت ہوتی تھی۔یہ اتنا نازک وقت تھا کہ حضرت عمر جیسے بہادر انسان نے بھی حضرت ابو بکر سے عرض کیا ی کہ اس وقت ہمیں ذرا نرمی اختیار کرنی چاہئے سارے ملک میں بغاوت ہوگئی ہے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جو لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اونٹ کا گھٹنا باند ھنے کی رتی زکوۃ میں دیتے تھے جب تک وہ یہ رشتی اب بھی نہ دینے لگیں گے میں ان سے لڑائی بند نہ کروں گا