خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 430

خطبات محمود ۴۳۰ سال ۱۹۳۶ کب تک انتظار کر سکتی ہے۔چنانچہ اپنی ترقی کو ہی دیکھ لو اگر لوگ اسی طرح ہماری جماعت میں داخل ہوتے رہیں جس طرح اب ہوتے ہیں یعنی ایک ایک دو دو یا جس طرح رسول کریم ہے کے ابتدائی زمانہ میں داخل ہوتے تھے تو شاید ہم ہزار سال میں اتنے لوگوں کو بھی احمدی نہ کر سکیں جتنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک اسلام لائے تھے۔کامیابی اُسی وقت ہوتی ہے جب لوگ نقل کرنے لگیں۔اگر جس چیز کی نقل کی جائے بچی ہو تو اس کی نقل کرنے والے بھی عقل والوں جیسے ہی ہو جاتے ہیں کیونکہ تربیت سے سچائی ان کے دلوں میں بٹھا دی جاتی ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ دخول کے وقت وہ نقل سے کام لیتے ہیں اور عقل بعد میں آتی ہے مگر نیک امر کی نقل کرنے والا کی باوجود اس کے کہ اُسے ابھی عقل سے حصہ نہیں ملا ہوتا بوجہ اس کے کہ وہ اچھی اور معقول بات کی نقل کر رہا ہوتا ہے دوسروں سے ذہین ضرور ہوتا ہے۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ پیرے کی مثال سنائی - وہ کم عقل آدمی تھا صرف نقل سے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا مگر جب مولوی علی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اُسے کہا کہ تم قادیان میں کیوں رہتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں کوئی پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ مرزا صاحب ریلوے سٹیشن سے بارہ کی میل کے فاصلہ پر رہتے ہیں اور لوگ خود بخود ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں مگر آپ روز سٹیشن پر آنے ہیں اور آپ کی جوتیاں بھی گھس گئی ہیں مگر پھر بھی آپ کو کوئی نہیں پوچھتا۔یہ دلیل اس کی ٹھیک تھی گوی اسی حد تک جس حد تک پیرے کے ایمان کا سوال تھا۔دنیا کی جتنی تسلی نقل سے ہوتی ہے اتنی دلائل سے نہیں ہوتی۔نقل میں پونچہ پکڑنے والی بات ہوتی ہے سچائی جب ایک حد تک ترقی کر جاتی ہے تو لوگ اس میں داخل ہونے کیلئے بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔اُس وقت وہ کوئی معمولی سی دلیل بھی سُن لیں تو کہہ دیتے ہیں کہ بس اب ہم سمجھ گئے ہیں۔ان لوگوں کی مثال اُس دھوبی کی سی ہوتی ہے جسے کہتے ہیں روز گھر والوں سے روٹھنے کی عادت تھی۔ایک دن اس کے بیوی بچوں نے فیصلہ کیا کہ اگر اب یہ روٹھے تو اسے منایا نہ جائے کیونکہ اسےمنایا روز منانے سے یہ سر چڑھ گیا ہے۔اگلے روز وہ پھر روٹھ گیا اور کہنے لگا میں گھر میں نہیں رہوں گا اور بیل لے کر باہر چلا گیا۔دن بھر انتظار کرتا رہا کہ کوئی منانے آئے گا مگر کوئی نہ آیا۔اُدھر بھوک نے تنگ کیا تو شام کے وقت بیل کو چھوڑ دیا اُس نے گھر کو ہی جانا تھا کیونکہ اسے یہی عادت تھی کہ صبح