خطبات محمود (جلد 17) — Page 394
خطبات محمود ۳۹۴ ۲۲ سال ۱۹۳۶ء جو میری سُنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سُنے گا وہ ہارے گا (فرموده ۱۹ جون ۱۹۳۶ء) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے گزشتہ کئی جمعوں سے ایک خاص مضمون کے متعلق خطبات شروع کر رکھے تھے لیکن انسان کچھ ارادہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کچھ ظاہر فرماتا ہے۔میں آج مجبور ہو گیا ہوں کہ اُس سلسلہ کو فی الحال ملتوی کر کے ایک اور مضمون کے متعلق بعض باتیں کہوں۔میرے قادیان سے جانے سے پہلے شاید ایک دن پہلے یا اُسی دن صبح کو دو موتیں بچوں کی ت یہاں ہو گئی تھیں اور اُن کے دفن کرنے کے سلسلہ میں بعض احرار کی طرف سے روکیں ڈالنے کی مجھے رپورٹ ملی تھی مگر بغیر اس کے کہ اُس کے متعلق کوئی ایسا جھگڑا پیدا ہوتا جو افسوسناک ہوتا وہ معاملہ ختم ہو گیا تھا۔میں وہاں پہنچا تو دوسرے یا تیسرے دن مجھے ایک تار ملا کہ پھر ایک میت کے دفن کرنے کے موقع پر شورش ہوئی ہے اور اس پہلے تار کے پہنچنے کے دوسرے دن پھر مجھے تا رملا کہ ایک اور بچہ فوت ہو گیا ہے اور اُس کے دفن کرنے پر معمولی شورش پر بغیر کسی واردات کے معاملہ ختم ہو گیا ہے۔غالبا اس وجہ سے کہ میرا قیام کوئی یقینی قیام نہ تھا کوئی تحریری رپورٹ امور عامہ کی طرف سے ان واقعات کے متعلق مجھ کو نہیں ملی۔سوائے دو غیر دفتری خطوط کے جن میں معاملہ وضاحت