خطبات محمود (جلد 17) — Page 395
خطبات محمود ۳۹۵ سال ۱۹۳۶ء سے بیان نہ تھا۔یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ کسی قدر صورت فساد کی بھی پیدا ہو گئی تھی اور یہ کہ ایک شخص نے دعوی کیا ہے کہ اس کو بعض احمدیوں نے مارا ہے۔چونکہ یہ معاملہ زیرتفتیش ہے اور عدالت میں چلا گیا ہے یا جانے والا ہے میں اس کے متعلق کچھ زیادہ نہیں کہنا چاہتا لیکن اصولی طور پر جماعت کو نصیحت کرنا میرا فرض ہے اور مجھے حق ہے کہ میں اسے سمجھاؤں۔ہم لوگ مسلمان ہیں اور پانچ وقت اپنی نمازوں میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا القِرَاء الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لاے اللہ ! تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔جب ہم اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ خدایا ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا تو کیا ہمارا فرض نہیں ہوتا کہ اس سیدھے راستہ کو دکھانے کیلئے اس کی طرف سے جو آواز آئے اُس پر ہم کان بھی دھر ہیں۔مجھے بعض مؤذنوں سے شکایت ہوتی ہے کہ جب نماز کا وقت آتا ہے اور وہ مجھے اطلاع دینے آتے ہیں تو زور زور سے کہنا شروع کر دیتے ہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ نماز کا وقت ہو گیا ، جی نماز کا وقت ہو گیا ، جی نماز کا وقت ہو گیا ، ایک بج گیا ، اب ڈیڑھ بج گیا ، میں اطلاع دینے آیا ہوں اور ان کلمات کا وہ اِس قدر تکرار کرتے اور ان پر اتنا زور دیتے ہیں کہ میری بات سنتے ہی نہیں آخر وہ چُپ کریں تو میری آواز سنیں۔جب وہ چُپ ہی نہیں کرتے تو میری آواز کس طرح سن سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات میں اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا آواز دیتا ہوں اور وہ نہیں سنتے ، پھر میں اُٹھ کر جواب دیتا ہوں تو پھر بھی نہیں سنتے ، پھر قریب کے کمرہ میں آکر جواب دیتا ہوں تو بھی نہیں سنتے ، پھر برآمدہ میں آکر جواب دیتا ہوں پھر بھی میری آواز نہیں سنتے اور مسجد میں آکر کہہ دیتے ہیں میں اطلاع دینے گیا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پتہ نہیں لگا۔یہ حالت اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود شور مچارہے ہوتے ہیں اور میری آواز سننے کی کوشش نہیں کرتے۔میں ہمیشہ انہیں نصیحت کیا کرتا ہوں کہ جب وہ مجھے آواز دیں تو پھر میرے جواب کو بھی متوجہ ہو کر سنا کریں۔اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم پانچ وقت خدا تعالیٰ کے دروازہ پر دستک دیں اور کہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ خدایا! ہمیں سیدھا راستہ دکھا ، خدایا! ہمیں سیدھا راستہ دکھا، اور خدا تعالیٰ بتارہا ہو کہ فلاں سیدھا راستہ ہے اُس پر چل کر میرے پاس آجاؤ مگر ہم اس کی آواز کو سنتے ہی نہیں اور پھر چُپ کر کے بیٹھ