خطبات محمود (جلد 17) — Page 393
خطبات محمود ۳۹۳ سال ۱۹۳۶ء غصہ، محبت ، نفرت یا عادت کا دخل ہوتا ہے اور اس وجہ سے ان کی آہستہ آہستہ اصلاح ہوتی ہے۔پس ایک طرف تو میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اصلاح اعمال کے ذرائع پر غور کرے اور جو مفید تجاویز میں ممد و معاون بنیں گے وہ اپنے دلوں میں یہ نیت کر لیں کہ اگر انہیں ان ذرائع کے اختیار کرنے کے نتیجہ میں اپنے بیوی بچوں، بھائیوں اور بہنوں اور دوسرے عزیز واقارب کو چھوڑنا پڑے تو وہ اس قربانی کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔اوّل تو ایمانداروں سے یہ امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ یہ دھمکی سننے کیلئے تیار ہوں۔ہمیں تو امید رکھنی چاہئے کہ وہ اصلاح اعمال کے ذرائع سنتے ہی فوراً ان پر عمل کرنا شروع کر دیں گے لیکن جو اس کیلئے تیار نہ ہوں جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ صاف طور پر ان سے کہہ دیں کہ آج کے بعد ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔مت سمجھو کہ اس قسم کی ہنگامہ خیزی کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گی۔اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی قربانی بُرے نتائج پیدا نہیں کرسکتی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرے شیطان کو بھی مسلمان بنادیا ہے سے یعنی میرا شیطان بھی مجھے جو تحریک کرتا ہے وہ اچھی ہوتی ہے۔اسی طرح رسول کریم کا جو سچا اور کامل متبع ہو اس پر جو مشکلات آتی ہیں وہ اُس کی تباہی کا موجب نہیں ہوتیں۔پس ہر قربانی جو اسلام کی ترقی کیلئے خدا تعالیٰ نے مقرر کی ہیں وہ نیک نتائج ہی پیدا کرتی ہے۔اسے بُرے نتائج کا حامل کوئی نہیں بنا سکتا۔فَانْكِحُوا مَاطَابَ لَكُمُ (النساء: ۴) التحريم: ۷ الفضل ۱۸ جون ۱۹۳۶ء) سے مسلم كتاب صفات المنافقين باب تحريش الشيطان