خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 364

خطبات محمود ۳۶۴ سال ۱۹۳۶ء حکومت کو چاہئے کہ اسے سزا دینے کیلئے قانون بنائے۔پس اگر امہات المؤمنین کے متعلق آپ نے ایسے مطالبہ سے روکا تو اس لئے کہ اُس وقت کوئی ایسا قانون موجود نہ تھا۔پس چونکہ حکومت بے بس تھی ، کیونکہ اس کیلئے کوئی رستہ کھلا نہ تھا وہ قانون کے رو سے اس شخص کو پکڑ نہ سکتی تھی۔ادھر یہ کی دیکھ کر کہ حکومت کچھ نہیں کرتی مسلمانوں میں جوش بڑھتا اور اس کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہ ہوتا کہ ملک میں بغاوت پیدا ہوتی اور فسادات بڑھ جاتے ، ملک کا امن برباد ہو جا تا مگر اب حکومت نے ایسا قانون بنا دیا ہے اس لئے ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ قانون جس غرض کیلئے بنایا گیا تھا اسے پورا بھی کیا جائے۔اگر اس قانون کے ذریعہ سے کہ ہندو، سکھوں اور عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں اور بزرگوں کی عزت کی حفاظت کی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعت احمدیہ کے بزرگوں کے متعلق یہ قانون معطل رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کے تحفظ کیلئے اس کو استعمال نہ کرنے کے یہ معنے ہیں کہ یا تو حکومت ہمیں اپنا دشمن سمجھتی ہے اور ہمیں قانون کے فائدہ سے بھی محروم رکھنا چاہتی ہے یا پھر یہ کہ وہ اکثریت سے ڈرتی ہے اس صورت میں وہ خود غلطی پر ہے ہم مطالبہ کرنے سے قانون شکن نہیں بنتے بلکہ وہ خود قانون شکن قرار پاتی ہے۔اس مطالبہ میں ہم ملک معظم کے نمائندہ ہیں اور حکومت قانون کو توڑنے والی ہے کیونکہ متواتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت کا ہاتھ معطل رہتا ہے اور بیسیوں بار مطالبات کے بعد معمولی سی حرکت کرتا ہے۔پس یا تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حالات کے بدلنے کی وجہ سے نیشنل لیگ کا قیام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے خلاف نہیں ہے ورنہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی گندی کتابوں کی ضبطی کے متعلق حکومت سے مطالبہ کرنا بھی آپ کے منشاء کے خلاف ہے۔غرض واقعات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ میموریل بھیجنے سے روکنے کی وجہ یہی تھی کہ اُس وقت کوئی ایسا قانون نہ تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود وائسرائے کو ایسا قانون بنانے کیلئے لکھا۔اب چونکہ ایسا قانون بن چکا ہے اس لئے ایسا مطالبہ کرنا نا جائز نہیں۔اسی طرح جس وقت آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت سے روکا اُس وقت آزادی زیر سایہ برطانیہ ہندوستان کا نصب العین قرارد نہ دیا گیا تھا بعد میں حکومت نے خود اس کا اعلان کر دیا۔اب سیاسیات میں حصہ