خطبات محمود (جلد 17) — Page 363
خطبات محمود ۳۶۳ سال ۱۹۳۶ء ساتھ ساتھ احکام کے معانی بدلتے جاتے ہیں۔میں اس وقت جس طرح بعض لوگ یو نہی کہہ دیا کرتے ہیں کہ اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں اس لئے حکم بھی بدل گیا ہے اس طرح نہیں کہہ رہا بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ جب فی الواقعہ حالات بدل جائیں تو یقینا احکام بھی بدل جاتے ہیں۔جس وقت مسلم لیگ قائم ہوئی اُس وقت حکومت ہند نے ہندوستان کا نصب العین جمہوری حکومت قرار نہیں دیا تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ حکومت نے اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور آزادی کو نصب العین نہیں قرار دیا اس لئے لازماً اختلاف فساد کا موجب ہوگا لیکن جب حکومت نے خود جمہوری حکومت حاصل کرنا ہندوستان کا نصب العین قرار دے لیا ہے اور رائے عامہ کو تسلیم کرنا قانون کا جز و قرار دے لیا ہے تو اب ایسے مطالبات کرنا انگریزی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اس کی تائید میں ہے۔غرض پہلے جو انگریز مسلم لیگ کی تائید کرتے تھے وہ ان کی ایک سیاسی چال تھی مگر اب خود حکومت نے قانون بنا دیا ہے کہ ہندوستان کا نصب العین جمہوری حکومت ہے۔پس نیشنل لیگ یہ مطالبہ نہیں کرے گی کہ اس سے باہر ہندوستان کو کوئی چیز دی جائے بلکہ وہ حکومت ہی کے قانون کی تشریح کا مطالبہ کرے گی اور وہ قانون خود انگلستان والوں نے بنایا ہے۔اس کی ایک موٹی مثال ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک عیسائی نے آنحضرت ﷺ پر گندے اور نا پاک حملے کئے اور ایک کتاب لکھی۔مسلمانوں کی طرف سے حکومت کی کو میموریل بھیجے گئے کہ اس کتاب کو ضبط کیا جائے اور اس شخص کو سزا دی جائے مگر آپ نے اس کی مخالفت کی لیکن آج ساری جماعت ان گندی کتابوں کے خلاف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق شائع کی جاتی ہیں حکومت سے ضبطی کا مطالبہ کرتی ہے حتی کہ احراری بھی اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے امام نے کہا تھا کہ امہات المؤمنین کو ضبط نہ کرانا چاہئے بلکہ اس کا جواب لکھنا چاہئے اور اب تم ضبطی کا مطالبہ کر کے گویا خود اپنے امام کے خلاف چلتے ہو۔لیکن اس کا جواب یہی ہے کہ جب آپ نے ضبطی کا مطالبہ کرنے سے روکا تھا اُس وقت کا رائج قانون اس تصنیف کو ضبط کرنے اور مصنف کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا تھا یہ قانون بعد میں بنا ہے۔لارڈایل جن کے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکومت کو خود توجہ دلائی تھی کہ جو شخص کسی کے بزرگ کی ہتک کر