خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 365

خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۶ء لینے والی انجمن کی طرف سے اس کا مطالبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کہلا سکتا۔چوتھا اعتراض یہ ہے کہ آپ کی تحریروں سے ہمیشہ آزادی کی خواہش ظاہر ہوتی ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔مجھے خوشی ہے کہ کم از کم ایک شخص نے تو محسوس کیا ہے کہ میں آزادی کا حامی ہوں مگر یہ غلط ہے کہ مجھے اس خیال کا حامی رہنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم روکتی رہی ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم نے ہی مجھے یہ سکھایا ہے۔جس چیز سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم روکتی ہے اس سے آج بھی ہم ڑکتے ہیں اور وہ بغاوت، فساد اور قانون شکنی ہے۔جو دُکھ ہمیں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے اب دیئے گئے ہیں وہ اگر ہزار گنا بھی بڑھ جائیں تو بھی ان چیزوں کو ہم کبھی جائز نہیں سمجھیں گے یہ اصولی تعلیم ہے۔باقی رہا ہندوستان کی آزادی کا سوال میں ایک منٹ کیلئے بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہندوستان کی آزادی کا خیال گاندھی جی اور پنڈت نہرو صاحب کو اس۔نصف بھی ہے جتنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تھا۔انبیاء ہمیشہ دنیا میں غلامی کو دور کرنے کیلئے آتے ہیں ان کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ دنیا کو کسی کا غلام بنا کر رکھیں بلکہ ان کا مقصد وحید یہی ہوتا ہے کہ دنیا کو آزاد کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی چونکہ مامور تھے اس لئے آپ کا بھی یہ مقصد تھا اس لئے جب بھی غلامی کی صورت پیدا ہو جماعت احمدیہ کا فرض ہوگا کہ اس کا مقابلہ کرے باقی تفاصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا کیونکہ میرا لیکچر سیاسی نہیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ٹیپو سلطان سے انگریزوں کو اس قدر بغض اسی وجہ سے ہے کہ وہ ہندوستان میں اسلامی حکومت کیلئے ان کے وجود کو خطرہ سمجھتا تھا اور شاید قریبی زمانہ میں تو نہیں مگر خلافت کے ابتدائی زمانہ میں میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس بادشاہ کا ادب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی سیکھا ہے۔میں نے بچپن میں ایک دفعہ جب ایک گتے کو ٹیپو ٹیپو کہہ کر پکارا تو آپ نے مجھے سختی سے روکا اور فرمایا کہ وہ ایک باغیرت مسلمان بادشاہ تھا تم ایک گتے کو اس کے نام سے کیوں پکارتے ہو؟ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کی غلطی تھی کہ وہ کانگرس میں شامل نہ ہوئے (اس کے متعلق بھی ایک دوست نے اعتراض کیا ہے کی