خطبات محمود (جلد 17) — Page 333
خطبات محمود ۳۳۳ سال ۱۹۳۶ء شکست اور کوئی نہیں ہو سکتی وہاں عمل کے میدان میں ہم دشمنوں میں محصور ہو گئے اور ہمارے لئے ان سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہ رہی۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں آدمی وہ ہم میں سے نقائص اور عیوب میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ہم ایک جگہ سے بھاگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسری جگہ امن ملے گا مگر وہاں بھی نقص آموجود ہوتا ہے، پھر وہاں سے بھاگ کر تیسری طرف جاتے ہیں تو وہاں بھی دشمن آموجود ہوتا ہے، تیسری جگہ سے بھاگ کر چوتھی طرف جاتے ہیں تو اس جگہ بھی دشمن ہمارے مقابلہ کیلئے موجود ہوتا ہے گویا جس طرح چاروں طرف جب آگ لگ جاتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے اور وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کرے یہی اس وقت ہماری حالت ہے۔مجھے اس پر اپنا ایک رویا یاد آ گیا ۱۹۲۲ ء یا ۱۹۲۳ء کی بات ہے میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا ایک جگہ آگ لگ گئی ہے میں اُسے بجھانے کیلئے اٹھا تو میں نے دیکھا ایک اور طرف سے بھی آگ کے شعلے نکلنے شروع ہو گئے ہیں اور وہ پہلی آگ سے زیادہ تیز شعلے ہیں میں دوڑ کر اُسے بجھانے کیلئے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تیسری طرف بھی آگ لگ گئی ہے اور وہ آگ دوسری آگ سے بھی زیادہ بھڑ کنے والی ہے۔یہ دیکھ کر میں اس آگ کی طرف اسے بجھانے کیلئے بھا گا تو دیکھا تو چوتھی طرف بھی آگ لگی ہوئی ہے اور وہ پہلی تینوں آگوں سے زیادہ تیز ہے۔یہ دیکھ کر میں خواب میں سخت گھبرا گیا اور میں کہتا ہوں نامعلوم اب کیا ہو گا آگ ہر طرف لگ رہی ہے اور اس کا ہر شعلہ پہلے شعلوں سے زیادہ تیز ہے۔میں اسی گھبراہٹ کی حالت میں حیران ہو کر کھڑا تھا کہ میں نے کی دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں۔آپ نے پوچھا تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ میں نے کہا حضور ! چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے میں ایک جگہ کی آگ بجھا تا ہوں تو دوسری جگہ نکل آتی ہے، دوسری جگہ کی آگ بجھاتا ہوں تو تیسری جگہ نکل آتی ہے اور ہر آگ پہلی آگ سے زیادہ تیز ہے جو کسی طرح سمجھنے میں نہیں آتی۔آپ نے فرمایا یہ آگ یوں نہیں مجھے گی اس آگ کی ایک کنجی ہے جو میں تمہیں بتا تا ہوں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مجھے زمین میں ایک سوراخ دکھایا اور فرمایا یہ اس آگ کی کنجی ہے۔پھر آپ نے اشارہ کیا کہ اس سوراخ کو بند کر دو اس پر میں نے اس سوراخ کو زور سے دبا دیا اور میں نے دیکھا کہ