خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 332

خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۶ء چاہتے ہیں کہ ہم نیک باتوں پر عمل کریں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے میدان میں ترقی کرتے چلے جائیں مگر شیطان ہماری ایڑی پکڑ لیتا ہے اور ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ہم اسے مارتے اور اپنے رستہ سے ہٹاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بجائے مدافعانہ پہلو کے جارحانہ پہلو اختیار کریں کہ پھر شیطان ہم پر حملہ کر دیتا ہے اور ہمارا کافی وقت اپنے آپ کو اس کے حملوں سے بچانے پر ہی صرف ہو جاتا ہے۔پس ہم اب تک اس کے دفاع اور اپنی حفاظت کی تدبیروں میں ہی لگے ہوئے ہیں اور اس سے اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ہم اپنے اصل کام کی طرف متوجہ ہوں اور بجائے مدافعانہ کے جارحانہ پہلو اختیار کریں حالانکہ ہمارا کام یہ نہ تھا کہ ہم اپنے بچاؤ کی تدابیر میں ہی لگے رہیں بلکہ ہمارا کام یہ تھا کہ ہم خود اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے اور تمام دنیا میں ایک ایسا تغیر پیدا کر دیتے کہ اپنے تو الگ رہے غیروں کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ڈھل جاتے لیکن ہماری تو یہ حالت ہے کہ ہمیں ابھی شیطان کے حملوں سے بچاؤ سے ہی فرصت نہیں ملتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اپنے اعمال بھی ابھی تک اس قابل نہیں ہوئے کہ ہم ان پر مطمئن ہو سکیں۔اب تو اکثر ایسا ہوا ہے کہ شیطان آتا ہے اور ہمارے ایک آدمی کو بہکا کر لے جاتا ہے ہم سارا دن اُس کی تلاش اور جستجو میں لگے رہتے ہیں لیکن جب شام ہونے کے قریب ہوتی ہے اور ہم اسے تلاش کر کے واپس لا رہے ہوتے ہیں تو ہمیں آواز آتی ہے کہ ہم میں سے دو اور آدمیوں کو شیطان بہکا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے۔پھر ہم ان کی تلاش میں نکلتے ہیں تو آواز آتی ہے کہ فلاں کی آدمی کو بھی شیطان پکڑ کر لے گیا ہے۔غرض ہم میں اور شیطان میں ایک جنگ جاری ہے اور جنگ بھی ایسی کہ جس میں ہماری مثال دشمن سے بھاگے ہوئے شکست خوردہ لوگوں کی سی ہے۔ہم ایک کو بچاتے ہیں تو دشمن دو کو لے جاتا ہے ، ہم دو کو بچاتے ہیں تو وہ تین آدمی لے جاتا ہے ، ہم تین کو بچاتے ہیں تو وہ چار لے جاتا ہے۔غرض عقیدہ کی جنگ میں جہاں ہم نے دشمن کو ہر میدان میں شکست دی اور نہ صرف میدانوں میں اسے شکست دی بلکہ ہم اس کے گھروں پر حملہ آور ہوئے اور ہم نے اسے ایسا لتاڑا اور ایسا لتاڑا کہ اب اس میں سر اٹھانے کی بھی تاب نہیں رہی۔دشمن کے ہر گھر میں گھس کر ہم نے اس کے باطل عقائد کو کچلا اور اسے ایسی کھلی شکست دی کہ دشمن کیلئے اس سے زیادہ کھلی اور ذلت کی